سعودی عرب کی پہلی 5 اسٹار لگژری ٹرین:ڈریم آف دی ڈیزرٹ” ایک متحرک ماسٹر پیس
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
سعودی عرب اپنی پہلی 5 اسٹار لگژری ٹرین سروس متعارف کرانے جا رہا ہے، جو صحرائی علاقے میں 800 میل تک کا سفر طے کرے گی۔
یہ پیش رفت ریاض میں فیوچر انویسٹمنٹ کانفرنس کے دوران متعارف کرائی گئی، جہاں ٹرین کا نام “ڈریم آف دی ڈیزرٹ” رکھا گیا۔ ٹرین سروس 2026 کے آخر میں باقاعدہ آغاز کرے گی۔
اس پراجیکٹ میں سعودی عرب ریلویز اور اطالوی گروپ Arsenale کا اشتراک شامل ہے، جو لگژری ٹرینوں میں عالمی شہرت رکھتا ہے۔ Arsenale کے چیف ایگزیکٹو پاؤلو بارلیٹا نے کہا کہ،
ڈریم آف دی ڈیزرٹ ایک متحرک ماسٹر پیس ہوگی، جو اطالوی مہارت اور سعودی وژن کا بہترین امتزاج پیش کرتی ہے۔
ٹرین 800 میل طویل روٹ پر سعودی عرب کے شاندار صحرائی مناظر سے گزرتی ہوئی ریاض کو قریات شہر سے ملائے گی۔
ٹرین میں 14 بوگیاں اور 34 پرتعیش کمرے ہوں گے، جہاں مسافر ایک یا دو راتوں کے ٹور کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ ہر بوگی سعودی ثقافت کے مختلف پہلوؤں کو خراج تحسین پیش کرے گی۔
ٹرین میں دو ریسٹورنٹس ہوں گے جو سعودی اور بین الاقوامی پکوان پیش کریں گے، جبکہ مرکزی لاؤنج میں مسافر آرام اور سماجی میل جول کر سکیں گے۔ ایک وقت میں 66 مسافر اس لگژری سفر کا حصہ بن سکتے ہیں۔
سعودی ریلوے کمپنی کے مطابق یہ ٹرین سروس سیاحت کو فروغ دینے کے سعودی منصوبے کا حصہ ہے، اور اس کے ذریعے مسافر نہ صرف سعودی عرب کے مختلف خطے دیکھ سکیں گے بلکہ یونیسکو عالمی ثقافتی ورثے میں شامل مقامات اور شاہ سلمان بن عبدالعزیز رائل نیچرل ریزرو کا بھی دورہ کر سکیں گے، وہ بھی مکمل پرتعیش سہولیات کے ساتھ۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔