پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد غیر ملکی جیلوں میں قید ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
وزارت خارجہ کے مطابق سعودی عرب میں سب سے زیادہ 10 ہزار 745 پاکستانی قید ہیں، جن میں کچھ سزا یافتہ جبکہ بڑی تعداد زیرِ سماعت مقدمات کا سامنا کر رہی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی مختلف جیلوں میں 5 ہزار 297 پاکستانی بند ہیں، تاہم وہاں پاکستانی شہریوں کے جرائم کی نوعیت سے متعلق تفصیلات دستیاب نہیں ہو سکیں۔ اسلام ٹائمز۔ وزارت خارجہ نے قومی اسمبلی میں تحریری جواب جمع کراتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر کی مختلف جیلوں میں 21 ہزار 647 پاکستانی شہری اس وقت قید ہیں۔ ان میں سزا یافتہ افراد بھی شامل ہیں جبکہ ایک بڑی تعداد ایسے پاکستانیوں کی ہے جن کے مقدمات مختلف عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق سعودی عرب میں سب سے زیادہ 10 ہزار 745 پاکستانی قید ہیں، جن میں کچھ سزا یافتہ جبکہ بڑی تعداد زیرِ سماعت مقدمات کا سامنا کر رہی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی مختلف جیلوں میں 5 ہزار 297 پاکستانی بند ہیں، تاہم وہاں پاکستانی شہریوں کے جرائم کی نوعیت سے متعلق تفصیلات دستیاب نہیں ہو سکیں۔
تحریری جواب کے مطابق بھارت کی جیلوں میں 738 پاکستانی قید ہیں، تاہم بھارتی حکام ان سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم نہیں کر رہے۔ چین میں اس وقت 652 پاکستانی بند ہیں جن میں سے اکثر منشیات اسمگلنگ اور جعلی کرنسی کے مقدمات میں گرفتار کیے گئے ہیں، اسی طرح قطر میں 599، عمان میں 578، ملیشیا میں 444 اور اٹلی میں 353 پاکستانی مختلف جرائم میں قید ہیں۔ بحرین میں 218، ترکیہ میں 190 جبکہ امریکہ میں 141 پاکستانی شہری مختلف نوعیت کے مقدمات میں سزائیں کاٹ رہے ہیں۔
افغانستان کی جیلوں میں بھی 91 پاکستانی قید پائے گئے ہیں۔ تحریری جواب کے مطابق دنیا بھر میں قید پاکستانیوں میں سے 13 ہزار 78 افراد کے مقدمات زیرِ سماعت ہیں جبکہ 8 ہزار 569 پاکستانی سزا یافتہ قرار پائے ہیں۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ بیرونِ ملک گرفتار پاکستانیوں کیلئے قونصلر رسائی اور قانونی معاونت کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستانی قید سزا یافتہ بڑی تعداد جیلوں میں کے مقدمات کے مطابق قید ہیں
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔