ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کا امکان، ایڈوائزری جاری
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کا امکان، ایڈوائزری جاری WhatsAppFacebookTwitter 0 14 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد : (آئی پی ایس) محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں 18 دسمبر تک کیلئے بارش اور برفباری کی پیش گوئی کر دی۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ڈی ایم اے) نے آج سے اسلام آباد اور گردونواح میں مطلع ابرآلود رہنے اور 18 دسمبر تک بارش برفباری اور موسم سے متعلق ایڈوائزری جاری کی ہے، مری، گلیات اور گرد و نواح میں مطلع ابرآلود رہنے کی توقع ہے۔
بالائی خیبرپختونخوا، کوہستان، گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری متوقع ہے، جبکہ آزاد جموں و کشمیر، بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کا امکان ہے۔
این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ 13 سے 15 دسمبر مغربی ہواؤں کا سلسلہ شمالی و مغربی علاقوں میں اثر انداز ہوگا، موسمی صورتحال کے باعث دھند کی شدت میں بھی اضافہ متوقع ہے، میدانی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش، پہاڑی اور بالائی علاقوں میں برفباری کا امکان ہے، کوہستان، بالائی خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں شدید برفباری ہو سکتی ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق گلگت بلتستان کے بالائی علاقوں اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں شدید برفباری کا امکان ہے، پہاڑی راستوں پر ٹریفک کی روانی متاثر اور بعض مقامات پر سڑکیں بند ہونے کا خدشہ ہے۔
کوئٹہ، زیارت، شمال مغربی بلوچستان کے بعض علاقوں میں ہلکی بارش، پہاڑی علاقوں میں برفباری متوقع ہے۔
بالائی علاقوں میں برفباری کے باعث سڑکوں پر پھسلن کے باعث ٹریفک روانی متاثر ہونے کا امکان ہے، شمالی علاقوں میں متعدد مقامات پر وقفے وقفے سے ہلکی برفباری متوقع ہے۔
این ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ سیاح اور مسافر پہاڑی علاقوں کے غیرضروری سفر سے گریز کریں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآئی ایم ایف پروگرام میں کوئی نئی شرائط شامل نہیں، وزارت خزانہ کی تردید آئی ایم ایف پروگرام میں کوئی نئی شرائط شامل نہیں، وزارت خزانہ کی تردید موٹروے ایم۔5 سی پیک سے چوری شدہ لاکھوں مالیت کا سرکاری سامان برآمد سوڈان میں ڈرون حملہ، یو این امن مشن کے 6 بنگلادیشی ارکان جاں بحق اسرائیل نے مغربی کنارے میں 19 یہودی بستیوں کو قانونی حیثیت دے دی روس کا یوکرین پر ہائپر سونک میزائل سے حملہ، 10لاکھ سے زائد گھر بجلی سے محروم جڑانوالہ، ٹھیکریوالہ اور کمالیہ میں شدید دھند، حدِ نگاہ صفر، ٹریفک شدید متاثرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری برفباری کا امکان
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔