وائس چانسلر کا انتخاب؛ این ای ڈی کے لیے تین نام شارٹ لسٹ
اشاعت کی تاریخ: 21st, April 2025 GMT
کراچی:
سندھ کی سرکاری جامعات میں وائس چانسلر کی تقرری کے لیے قائم تلاش کمیٹی (search committee) نے این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکنالوجی کے سربراہ کے لیے تین ناموں کا انتخاب کرلیا ہے۔
وائس چانسلرز کے لیے تین شخصیات کا انتخاب جمعے کو منعقدہ انٹرویوز کے بعد کیا گیا ہے جس میں 7 امیدوار شریک ہوئے تھے جبکہ انٹرویوز کے لیے اسکروٹنی کے بعد 9 امیدواروں کو بلایا گیا تھا۔
‘‘ایکسپریس‘‘ کو محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے ذرائع نے بتایا کہ جن تین امیدواروں کا نام بطور وائس چانسلر شارٹ لسٹ کیا گیا ہے ان میں این ٹی ڈی کے موجودہ پرو وائس چانسلر ڈاکٹر طفیل احمد، ڈاکٹر غوث بخش ناریجو اور ڈاکٹر ذوالفقار علی میمن شامل ہیں۔
واضح رہے کہ این ای ڈی یونیورسٹی کے لیے مجموعی طور پر 17 امیدواروں نے درخواست دی تھی۔
ذرائع کے مطابق جن تین ناموں کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے ان کے نام سیکیورٹی اداروں کو کلیئرنس کے لیے بھیجے جا رہے ہیں اور کلیئرنس موصول ہونے کے بعد محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز سمری جامعات کی کنٹرولنگ اتھارٹی وزیر اعلیٰ سندھ کو ارسال کرے گا۔ وزیر اعلیٰ تین میں سے کسی ایک نام کا بطور وائس چانسلر انتخاب کریں گے۔
واضح رہے کہ تلاش کمیٹی کے مستقل اراکین میں بربنائے عہدہ چیئرمین سندھ ایچ ای سی، سیکریٹری، سیکریٹری کالج ایجوکیشن، سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز جبکہ کوآپٹڈ رکن کے طور پر ڈاکٹر سروش لودھی اور ڈاکٹر قدیر راجپوت شامل تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وائس چانسلر کے لیے
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔