حماس 5 سالہ جنگ بندی کی شرط پر اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کیلئے تیار
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
غزہ:
فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس نے تنازع پر معاہدے کے لیے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر غزہ میں 5 سال کے لیے وحشیانہ کارروائیوں روک دی جاتی ہیں تو اسرائیل کے تمام قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔
غیرملکی خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق حماس کے ایک عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حماس ایک ہی دفعہ قیدیوں کے تبادلے اور 5 سال کی جنگ بندی کے لیے تیار ہے۔
قبل ازیں حماس نے 17 اکتوبر کو جزوی جنگ بندی کی تجویز کی مخالفت کی تھی اور اسرائیل کی جانب سے 10 قیدیوں کے بدلے 45 روز کے لیے جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کردیا تھا۔
حماس کی مسلسل یہ مؤقف رہا ہے کہ معاہدہ فلسطین کے تنازع کے مکمل خاتمے پر مشتمل ہونا چاہیے، جس میں اسرائیلیوں کا غزہ سے انخلا، قیدیوں کا تبادلہ اور جنگ زدہ فلسطینی سرزمین پر انسانی بنیاد پر امداد کی فوری اور بتدریج فراہمی کی اجازت شامل ہو۔
دوسری جانب اسرائیل کا مطالبہ ہے کہ تمام قیدیوں کی واپسی ہو اور حماس سمیت دیگر گروپس غیرمسلح ہوجائیں۔
یاد رہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہوئی تھی جب حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا اور اس دوران ایک ہزار 218 اسرائیلی ہلاک ہوگئے تھے۔
حماس نے اس کارروائی میں 251 اسرائیلیوں کو حراست میں لیا تھا جن میں سے بڑی تعداد بعد ازاں ہونے والے معاہدوں کے تحت رہا کردیے گئے اور متعدد اسرائیلی حملوں میں مارے گئے تاہم اس وقت حماس کی قید میں 58 اسرائیلی موجود ہیں۔
قطر، مصر اور امریکا کی ثالثی میں دونوں فریقین کے درمیان رواں برس 19 جنوری سے 17 مارچ تک جنگ بندی ہوئی تھی اور اسرائیل کے 33 قیدیوں کو رہا کردیا گیا، جن میں ہلاک ہونے والے 8 افراد بھی شامل تھے، اس کے بدلے میں اسرائیل نے ایک ہزار 800 فلسطینیوں کو اپنی جیلوں سے رہا کردیا تھا۔
غزہ کی وزارت صحت کے اعداد وشمار کے مطابق اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں میں 18 مارچ سے اب تک دو ہزار 62 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جبکہ شہید فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 51 ہزار 439 سے تجاوز کرگئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک