پاک بھارت کشیدگی تکلیف دہ صورتحال ہے، امن کے لیے خدمات پیش کرتا ہوں، سیکریٹری جنرل یو این
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس نے پاکستان اور بھارت کے مابین جاری حالیہ کشیدگی پر بیان دیتے ہوئے دونوں ممالک جنگ کو جنگ سے گریز کرنے کی تلقین کی ہے۔
میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ پہلگام حملے کی مذمت کرتا ہوں اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہوں۔ شہریوں کو نشانہ بنانا قابل قبول نہیں، حملہ آوروں کو کیفر کردار تک پہنچنا چاہئیں۔
یہ بھی پڑھیے: اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب کی انتونیو گوتریس سے ملاقات، خطے کی صورتحال پر گفتگو
انتونیو گوتریس نے کہا کہ اقوام متحدہ ایسی کاؤش کی حمایت اور مدد کے لیے تیار ہے جس سے کشیدگی کم ہو، دونوں ممالک میں جنگ کی سی صورتحال میرے لیے باعث تکلیف ہے، پاکستان اور انڈیا قیام امن کرنے کے لیے اپنی خدمات پیش کرتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت کشیدگی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، دونوں ممالک کو پیغام دیا ہے کہ کسی مسئلے کا فوجی حل کوئی حل نہیں، یہ اپنے آپ کو روکنے اور جنگ کے دہانے سے واپس لوٹنے کا وقت ہے، ایسی محاذ آرائی سے بچنا چاہیے جس سے جنگ کا خطرہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ انتونیو گوتریس پاک بھارت کشیدگی جنگ کا خطرہ محاذ آرائی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ انتونیو گوتریس پاک بھارت کشیدگی جنگ کا خطرہ انتونیو گوتریس اقوام متحدہ کے لیے
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔