روہت شرما نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
بھارت(نیوز ڈیسک)بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان روہت شرما نے ٹیسٹ فارمیٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔
کھیلوں کی ویب سائٹ ’کرک انفو‘ کے مطابق طویل فارمیٹ میں مسلسل خراب کارکردگی کا مظاہر کرنے والے روہت شرما نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان اس وقت کیا جب بھارتی میڈیا میں انہیں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریزمیں کپتانی سے ہٹائےجانے کی خبریں سامنے آرہی تھیں۔
روہت شرما کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ سے فوری ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد بھارت کو آئی پی ایل کے اختتام پر وائٹ فارمیٹ کے لیے نیا مستقل کپتان نامزد کرنا ہوگا۔
یاد رہے کہ بھارت اور انگلینڈ کے درمیان 5 ٹیسٹ میچوں کی سیریز 20 جون کو ہیڈنگلے میں شروع ہو رہی ہے۔
روہت شرما کا اپنے بیان میں کہنا تھا ’میں مداحوں سے شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہورہا ہوں، ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا ایک خواب جیسا تھا اور ملک کی نمائندگی کرنا میرے لیے اعزاز رہا، تاہم ون ڈے فارمیٹ میں بھارت کی نمائندگی جاری رکھوں گا۔
خیال رہے کہ گزشتہ سال بھارت کو ورلڈچیمپئن بنوانے کے بعد روہت شرما نے ٹی20 انٹرنیشنل سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا تھا، ان کے ساتھ ہی ویرات کوہلی اور رویندرا جڈیجا بھی اس فارمیٹ سے ریٹائر ہوگئے تھے۔
روہت شرما نے 67 ٹیسٹ میچوں میں 40 کی اوسط سے 4 ہزار 301 رنز بنائے جس میں 12 سینچریاں اور 18 نصف سینچریاں شامل تھیں، تاہم گزشتہ چند میچوں میں ان کی کارکردگی بدترین رہی۔
روہت شرما نے گزشتہ 8 ٹیسٹ میچوں میں صرف ایک بار 50 کا ہندسہ عبور کیا اور اس دوران ان کی بیٹنگ اوسط صرف 10.
ان کی قیادت میں بھارت کو بنگلہ دیش اور پھر نیوزی لینڈ کے خلاف اپنے ہوم گراؤنڈ پر تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا اور پھر آسٹریلیا میں بھی بھارت کو 3-1 کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان کی جوابی کارروائی کا خوف، بھارت نے21 ایئرپورٹس کو بند کر دیا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: سے ریٹائرمنٹ کا اعلان ٹیسٹ کرکٹ سے روہت شرما نے بھارت کو
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔