اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بھارت نے جارحیت میں پہل کی، پاکستان نے صرف اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کی۔ بھارت کو خود پیچھے ہٹنا ہو گا، بھارت نے ہماری شہری آبادی کو نشانہ بنایا جبکہ ہم نے اخلاقیات اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کی شہری آبادی پر حملے نہیں کئے۔ صرف بھارتی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ’’بی بی سی‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان نہ جارح ہے، نہ ہی اشتعال انگیز، پاکستان ایک پرامن ملک ہے۔ بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستان کی شہری آبادی پر حملہ کیا جس میں معصوم بچوں، خواتین اور بے گناہ شہریوں کو شہید کیا گیا جن کا کسی تنازعہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ بھارت نے ہماری کچھ عسکری تنصیبات کے قریب کارروائی کی۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی۔ پاکستان نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کی شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا۔ ہم نے صرف ان کی عسکری تنصیبات، عسکری ساز و سامان، ریڈارز اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا کیونکہ یہ ہمارے جنگی اخلاقیات کا حصہ ہے۔ ہم جنگ میں بھی اصولوں کی پاسداری کرتے ہیں۔ بھارت کی جانب سے یہ الزام کہ پاکستان نے 400 ڈرونز مختلف بھارتی شہروں، مذہبی مقامات اور شہری علاقوں کی طرف بھیجے، کی سختی سے تردید کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ بے بنیاد دعوے ہیں جن کا مقصد اصل صورتحال سے توجہ ہٹانا ہے۔ پاکستان میں ننکانہ صاحب، پنجہ صاحب اور کرتارپور جیسے سکھ برادری کے مقدس مقامات ہیں جن کا ہم تحفظ کرتے ہیں۔ پہلگام کا علاقہ لائن آف کنٹرول سے تقریباً 200 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور شہباز شریف نے خود کہا کہ ہم اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات میں تعاون کے لئے تیار ہیں۔ پہلگام واقعہ کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی اور نہ ہی بھارت نے اس بارے میں کوئی شواہد فراہم کئے۔ اس واقعہ کو پاکستان سے جوڑنے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ جب مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ایسے حملے ہو جائیں؟ جب اتنی بڑی فوج موجود ہو اور پھر پہلگام جیسا واقعہ ہو جائے تو یہ بھارت کی سکیورٹی اور انٹیلی جنس ناکامی ہے۔ ہم نے تحقیقات کی پیشکش کی لیکن بھارت نے کسی قسم کا ثبوت فراہم نہیں کیا اور پھر اس واقعہ کی آڑ میں پاکستان پر حملہ کر دیا جبکہ ہم دہشت گردی کے خلاف صف اول کی ریاست ہیں۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان نے بہت تحمل کا مظاہرہ کیا، ہم نے پورے چار دن تک ضبط سے کام لیا لیکن بھارت نے ہماری شہری آبادی پر بلا اشتعال حملے جاری رکھے، بھارت نے پہلگام واقعہ پر کوئی شواہد فراہم نہیں کئے اور نہ ہی ہماری شہری آبادی پر حملوں کا جواز فراہم کیا۔ بھارت نے عورتوں اور بچوں پر حملے کئے، اب بھارت پر ہے کہ وہ حالات کو بہتر کرے کیونکہ کشیدگی کا آغاز بھارت نے کیا، پاکستان نے امریکہ، چین، سعودی عرب اور دیگر ممالک سے سفارتی رابطے کئے، وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت سے کسی قسم کا براہ راست رابطہ نہیں ہوا اگر کوئی تازہ پیشرفت ہوئی تو فوجی ترجمان جلد اس سے آگاہ کریں گے۔ ہماری افواج لائن آف کنٹرول پر دفاعی پوزیشن میں موجود ہیں اور کئی دنوں سے الرٹ پر ہیں کیونکہ بھارتی حملے مسلسل ہو رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پاکستان نے کرتے ہوئے بھارت نے کو نشانہ بھارت کی کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی