اسلام ٹائمز: شجرکاری مہم کی تقریب میں فلسطین فاؤنڈیشن کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم، ڈاکٹر وقار احمد، ڈاکٹر ذیشان اقبال، پادری ایمانوئیل، ڈاکٹر معروف احمد، ڈاکٹر ایاز، ڈاکٹر ندا علی، ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما محفوظ یار خان، جماعت اسلامی پاکستان کے رہنما مسلم پرویز، ڈاکٹر صالحہ، ڈاکٹر حمیرا اور دیگر معززین شریک ہوئے۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ یومِ نکبہ کے موقع پر فلسطینی عوام سے یکجہتی کے اظہار کے لیے فلسطین اکیڈمک فورم اور فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے زیرِ اہتمام جامعہ کراچی میں شجرکاری مہم کا انعقاد کیا گیا۔ اس مہم میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ و طالبات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات نے شرکت کی۔ شجرکاری تقریب میں فلسطین فاؤنڈیشن کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم، ڈاکٹر وقار احمد، ڈاکٹر ذیشان اقبال، پادری ایمانوئیل، ڈاکٹر معروف احمد، ڈاکٹر ایاز، ڈاکٹر ندا علی، ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما محفوظ یار خان، جماعت اسلامی پاکستان کے رہنما مسلم پرویز، ڈاکٹر صالحہ، ڈاکٹر حمیرا اور دیگر معززین شریک ہوئے۔ تقریب میں شرکاء نے درخت لگا کر فلسطین سے اظہار یکجہتی کیا اور کہا کہ یہ شجرکاری نہ صرف ایک ماحولیاتی خدمت ہے بلکہ ایک علامتی پیغام بھی ہے کہ فلسطینی عوام کی جدوجہد کو سبز امیدوں سے جوڑا جائے۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ فلسطین کے مظلوم عوام کی قربانیاں انسانی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں اور دنیا کو ان کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کرنا چاہیئے۔ پروگرام کے اختتام پر فلسطینی عوام کی آزادی اور دنیا بھر میں مظلوم اقوام کی حمایت میں دعائیں کی گئیں، جبکہ جامعہ کراچی میں planted trees کو یکجہتی کے "درختِ مزاحمت" کا نام دیا گیا۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.

youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: فلسطینی عوام پاکستان کے

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم