محسن نقوی کا ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کاآمد،ڈرون حملے میں زخمی شخص کی عیادت
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بھارتی ڈرون حملے میں زخمی شخص توقیر عباس کی عیادت کی ہے۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کا دورہ کیا جہاں راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم کے قریب بھارتی ڈرون دہشتگردی میں 8 بہنوں کے اکلوتے بھائی شہید علی حیدر کے زخمی کزن توقیر عباس کی خیریت دریافت کی اور نوجوان کے بلند حوصلے کو سراہا۔انہوں نے توقیر عباس کی زخمی آنکھ کے علاج معالجے بارے ڈاکٹرز سے معلومات لیں اور بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔محسن نقوی کا کہنا تھا کہ توقیر عباس کی آنکھ کو بچانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی، دعا ہے کہ اللہ زخمی توقیر عباس کو جلد صحتیابی عطا فرمائے، اللہ تعالیٰ نے شہدا کی قربانیوں کی بدولت فتح نصیب کی۔واضح رہے کہ شہید علی حیدر اور دو زخمی کزن توقیر عباس و منظور فیصل راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم کے باہر چپس برگر فروخت کر کے خاندان کا پیٹ پالتے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: توقیر عباس کی محسن نقوی
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔