کانز فلم فیسٹیول میں عریاں لباس پہننے پر پابندی عائدکر دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
کانز فلم فیسٹیول نے رواں سال اپنی ریڈ کارپٹ پالیسی میں واضح تبدیلیاں کرتے ہوئے مکمل برہنگی اور غیر معمولی حد تک پُرآرائش یا بڑے سائز کے ملبوسات پر پابندی لگا دی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اقدام 2022 میں ایک مظاہرہ کرنے والی خاتون کے ٹاپ لیس ہونے اور حالیہ گرامی ایوارڈز میں بیانکا سنسوری کے عریاں لباس پہننے جیسے واقعات کے بعد کیا گیا ہے۔
فیسٹیول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان ہدایات کا مقصد لباس پر مکمل پابندی لگانا نہیں بلکہ تقریب کے اصولوں اور فرانسیسی قوانین کے مطابق مکمل برہنگی کو روکنا ہے۔اس کے ساتھ ہی فیسٹیول نے وضاحت کی ہے کہ ایسے افراد کو ریڈ کارپٹ پر داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی جن کے لباس کے لباس زیادہ پھولے ہوئے اور بڑے ہوں جس سے دیگر مہمانوں کی آمدورفت میں رکاوٹ ہو یا سنیما ہال میں بیٹھنے کے انتظامات کو متاثر کریں۔
یاد رہے کہ گزشتہ برسوں میں کانز فیسٹیول اپنے لباس سے متعلق سخت ضوابط کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنتا رہا ہے، خاص طور پر خواتین کے لیے ہائی ہیلز کی لازمی شرط پر۔ حالیہ برسوں میں کم ہیل والے سینڈلز پہنے کی اجازت ملی ہے، مگر اسنیکرز تاحال ممنوع ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت؛ 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ
کراچی:سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں تفتیشی افسر نے 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ کر لیے۔
سٹی کورٹ نے تفتیش مکمل کرنے کے لیے تفتیشی افسر کو 7 دن کی مہلت دے دی۔
تفتیشی افسر ڈی ایس پی عامر ورک نے عدالت سے کہا کہ بیانات مکمل نہیں ہوئے لہٰذا تفتیش مکمل کرنے کے لیے مہلت دی جائے۔ ایس ایس پی ٹریفک، فائربریگیڈ، سول ڈیفنس اور کے ایم سی افسران کے بیان ریکارڈ کر لیے ہیں۔
مزید پڑھیںسانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ پبلک کرنے کی درخواست مسترد
سانحہ گل پلازہ کیس: سرکاری اداروں نے تعاون نہیں کیا، تفتیشی افسر نے پیشرفت رپورٹ عدالت میں جمع کرادی
تفتیشی افسر کے مطابق فائر بریگیڈ کے اس فائر آفیسر کا بیان ریکارڈ کیا ہے، جو پہلی گاڑی کے ساتھ گل پلازہ پہنچا تھا۔ تنویر پاستا، عمار اسماعیل، امین، رمضان، نعمت اللہ اور 11 سالہ حذیفہ کا بیان پہلے ہی ریکارڈ ہوچکا ہے۔
ڈی ایس پی عامر ورک نے 8 سرکاری اداروں کے سربراہوں کو خطوط لکھے ہیں۔