پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی پٹائی کے بعد امریکا کا نیا جیٹ طیارہ لانے کا عندیہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
پاکستان کے ہاتھوں چینی ساختہ طیاروں سے بھارت کی پٹائی کے بعد امریکی ایئر فورس چیف نے نیکسٹ جنریشن ایئر ڈامیننس (NGAD) کے فائٹر جیٹ ایف-47 کے 29-2025 کے درمیان بیڑے میں شامل ہونے کا عندیہ دے دیا۔
سماجی رابطے کےپلیٹ فارم ایکس پر سربراہ امریکی ایئر فورس جنرل ڈیوڈ ایلون کی جانب سے شیئر کی گئی انفو گرافکس میں فورتھ، ففتھ اور اگلی جنریشن کے لڑاکا طیاروں کا موازنہ کیا گیا اور کچھ بنیادی خصوصیات کی تصدیق کی گئی۔
Our @usairforce will continue to be the world’s best example of speed, agility, and lethality.
پوسٹ کے مطابق اس لڑاکا طیارے کا کامبیٹ ریڈیئس (بیس سے اڑ کر آپریشن انجام دینے کے بعد بغیر ری فیولنگ بیس واپس آنا) 1000 ناٹیکل مائلز سے زیادہ کا ہے۔ جو کہ فورتھ جینریشن کے ایف-15 ای (ایکس) اور ایف-16 اور ففتھ جنریشن کے ایف-22 اور ایف-35 اے سے بہت زیادہ ہے۔
(تصویر: سربراہ امریکی ایئر فورس جنرل ڈیوڈ ایلون)
کامبیٹ ریڈیئس کی یہ خصوصیت اس طیارے کو جنرل ڈائنامکس کے ایف-111 کے درجے میں ڈالتی ہے جو کہ ایک فائٹر بمبار اور ریڈار جیمر طیارہ تھا جس کو امریکی ایئر فورس قریب 30 برس قبل ریٹائرڈ کر چکی ہے۔ تاہم، کچھ ایسی خصوصیات ہیں جو اس کو ایف-111 سے علیحدہ کرتا ہے۔
جنرل ڈیوڈ ایلون کی پوسٹ کے مطابق ایف-47 میں ایف-22 سے بہتر اسٹیلتھ فیچر ’اسٹیلتھ++‘ ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امریکی ایئر فورس
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔