کراچی، چینی قونصل خانے پر حملے کے مقدمے میں گواہ کو پیش کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
دورانِ سماعت عدالت نے کیس پراپرٹی پیش نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیس پراپرٹی اور گواہوں کو پیش کیوں نہیں کر رہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے چینی قونصل خانے پر حملے کے مقدمے میں کیس پراپرٹی اور گواہوں کو پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ دورانِ سماعت عدالت نے کیس پراپرٹی پیش نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیس پراپرٹی اور گواہوں کو پیش کیوں نہیں کر رہے۔ بعد ازاں عدالت نے آئندہ سماعت پر کیس پراپرٹی اور گواہوں کوپیش کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے کیس کی سماعت 31 مئی تک ملتوی کر دی۔ پولیس کے مطابق مقدمے میں کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے کارندے علی حسنین، عبداللطیف سمیت 4 ملزم گرفتار ہیں۔ مقدمے میں کالعدم بی ایل اے کے سربراہ حربیار مری سمیت 16 ملزم اشتہاری ہیں۔ واضح رہے کہ کراچی میں چینی قونصلیٹ پر نومبر 2018ء میں حملہ ہوا تھا، جس میں 3 دہشتگردوں سمیت 7 افراد مارے گئے تھے، دہشتگردوں کیخلاف سول لائن پولیس نے مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔