پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن اور بنگلہ دیش کے حکومتی وفد کی لاہور میں ملاقات۔ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی سرگرمیوں کو بحال کرنے پراتفاق کرلیا گیا۔رپورٹ کے مطابق لاہور میں پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن اور بنگلہ دیش کے حکومتی وفد کی ملاقات ہوئی. جس میں دونوں ممالک کی کمرشلز بنیادوں پر فلمی وفود کا تبادلہ، ٹیکنالوجی، فلم میں ارتقائی صورت حال  کا جائزہ لیا گیا۔پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شہزاد رفیق نے گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ یہ ہمارے لئے یہ سنہری موقع ہے کہ ہم پھر سے اپنی کھوئی ہوئی مارکیٹ حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین ایک نکاتی ایجنڈا پر زور دیا۔بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر ایم ڈی اقبال حسین خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  دونوں ممالک کے درمیان کو پروڈکشن دوبارہ سے بحال ہونی چاہیے۔ انہوں نے سارک کلچرل پروگرام کی بحالی پر بھی زور دیا اور بنگلہ دیش کے قونصل خانے کے بھرپور تعاون کی پیشکش کی۔بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر نے کہا کہ دونوں ممالک کی فلموں کا فیسٹیول بھی ہونا چاہیے۔ مشترکہ فلم سازی سے فلم انڈسٹری کو ترقی ملے گی۔پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے ممبران نے بھی خوشی کا اظہار کیا اور مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ تقریب میں فلم اسٹار شان نے بھی شرکے کی اور گفتگو کے دوران کہا کہ اب ہاتھ ملانے کا نہیں، گلے ملنے کا وقت ہے۔اس تقریب میں صفدر ملک، سید نور، خلیل الرحمن قمر، ذوالفقار مانا، مسعود بٹ اور عمران اسلام  نے بھی خطاب کیا اور اپنی اپنی تجاویز پیش کیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اور بنگلہ دیش کے دونوں ممالک زور دیا

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم