واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 17 مئی ۔2025 )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں انہوں نے پاکستانیوں کو ذہین قوم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ شاندار مصنوعات تیار کرتے ہیں ”فاکس نیوز“ سے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ پاکستانی ذہین لوگ ہیں، وہ حیرت انگیز اور شاندار مصنوعات بناتے ہیں ہم ان کے ساتھ زیادہ تجارت نہیں کرتے اور پھر بھی میرا ان کے ساتھ اچھا تعلق ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان، امریکا کے ساتھ تجارت کا خواہشمند ہے.

امریکہ پاکستان کا سب سے بڑا برآمدی شراکت دار ہے سال 2024 تک سالانہ 5 ارب ڈالر سے زائد کی برآمدات ہوتی ہیں جبکہ پاکستان کی امریکہ سے درآمدات تقریباً 2.

(جاری ہے)

1 ارب ڈالر ہیں اپریل کے دوران ٹرمپ نے دنیا بھر سے درآمدات پر وسیع ٹیکسز عائد کر کے ممکنہ تباہ کن تجارتی جنگ شروع کی اور اہم تجارتی شراکت داروں پر اضافی سخت محصول لگائے پاکستان پر 29 فیصد متقابل ٹیکس عائد کیا گیا تھا جسے جولائی تک معطل کر دیا گیا ہے.

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکا کے دورے کے دوران جریدے” بلو م برگ“ کے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان امریکہ سے مزید مصنوعات خریدنا چاہتا ہے اور غیر محصولاتی رکاوٹیں ختم کرنا چاہتا ہے تاکہ ٹرمپ کے سخت محصولات سے بچا جاسکے. صدرٹرمپ نے انٹرویو میں پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ شدید جھڑپوںپر گفتگو کرتے ہوئے ایک بار پھر دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان جنگ بندی معاہدہ کروانے کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے بہت بڑی کامیابی قرار دیا ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان صورتحال اتنی کشیدہ ہو گئی تھی کہ ایٹمی جنگ تک چھڑسکتی تھی انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں ایٹمی جنگ ہونے والی تھی یا کم از کم بہت قریب تھی،نفرت کافی بڑھ گئی تھی.

صدرٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ اپنی بھرپور مشاورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پاکستان سے زبردست بات چیت ہوئی ہم پاکستان کو نظر انداز نہیں کر سکتے کیونکہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی بھارت اور پاکستان کے ساتھ اپنی تجارتی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ حساب برابر کرنے اور امن قائم کرنے کے لیے تجارت کو استعمال کررہے ہیں.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کہ پاکستان ان کے ساتھ نے کہا کہ

پڑھیں:

سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا

سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔

فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ 

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار