ایئر چیف مارشل کی اسکواڈرن لیڈر عثمان یوسف شہید کے گھر آمد، اہلخانہ سے اظہار تعزیت
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
راولپنڈی(نیوز ڈیسک)چیف آف دی ایئر اسٹاف، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اسکواڈرن لیڈر عثمان یوسف شہید کے گھر راولپنڈی پہنچے جہاں انہوں نے فاتحہ خوانی کی اور شہید کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ایئر چیف نے شہید افسر کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے حالیہ دشمن حملے کے دوران پاکستان ایئر فورس کے ایک آپریشنل ایئر بیس پر جان کا نذرانہ دے کر جامِ شہادت نوش کیا۔
ایئر چیف کا کہنا تھا کہ ہمارے شہداء کی قربانیاں ہمیشہ قوم کے دلوں میں زندہ رہیں گی اور ان کا احترام پوری عقیدت و عزت سے کیا جائے گا۔
انہوں نے شہید کی درجات کی بلندی کے لیے دعا بھی کی اور اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) راولپنڈی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاکستان ایئر فورس، پاکستان آرمی اور ان شہریوں کی عیادت کی۔
ایئر چیف نے زخمی اہلکاروں سے فرداً فرداً ملاقات کی، ان کے حوصلے اور جرات کو سراہا۔ ایئر چیف نے ان کے علاج کے بارے میں مکمل طبی بریفنگ بھی حاصل کی۔
انہوں نے اسپتال انتظامیہ کو ہدایت دی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات اور مکمل انتظامی معاونت فراہم کی جائے۔
ایئر چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان ایئر فورس ملک کی فضائی سرحدوں کے دفاع کے لیے ہر قیمت پر پرعزم ہے۔ اپنے بہادر جوانوں کی قربانیوں اور حوصلے کی شاندار روایت کو ہر صورت قائم رکھے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس، پنجاب حکومت کے فیصلے پر وفاقی آئینی عدالت کا سخت اظہارِ تشویش
وفاقی آئینی عدالت میں سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس کی سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے رائلٹی کے نفاذ کے طریقۂ کار پر عدالت نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جس میں مختلف قانونی نکات اور رائلٹی کے دائرہ کار پر تفصیلی ریمارکس دیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا
سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ رائلٹی کا نفاذ معدنیات پر ہونا چاہیے نہ کہ سیمنٹ کی تیار شدہ بوری پر، کیونکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی عائد کرنے سے اس کا بوجھ بالآخر عوام پر منتقل ہوگا۔ جسٹس روزی خان نے کہا کہ فیکٹری مالکان کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ رائلٹی کا اثر عام صارف تک پہنچتا ہے، جس سے سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ حکومت فینش پروڈکٹ پر رائلٹی کیسے وصول کر سکتی ہے اور کیا اس کے نتیجے میں سیمنٹ کی بوری کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اپنے لاء افسران کو اس معاملے پر واضح ہدایات دینی چاہئیں کہ اس نوعیت کا نفاذ قانونی طور پر مناسب نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ
عدالت میں وکیل احسن بھون نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت صرف معدنیات پر رائلٹی وصول کر سکتی ہے، جبکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی دراصل ایک بالواسطہ ٹیکس کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمنٹ کی بوری پر رائلٹی کا نفاذ دراصل ڈبل ایکسائز ٹیکس کی وصولی کے برابر ہے۔
دورانِ سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے حکومت سے مزید ہدایات لینے کے لیے مہلت دینے کی استدعا کی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے مزید وقت فراہم کر دیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب حکومت رائلٹی کیس سیمنٹ کیس وفاقی آئینی عدالت