Express News:
2026-06-03@04:57:38 GMT

پاکستان کی غیر متوازن خوشحالی

اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT

کسی بھی ملک کے ترقی یافتہ ہونے کے معنی کیا ہیں؟ زیادہ سے زیادہ کارخانے، زیادہ سے زیادہ صنعتیں، بڑی بڑی شاہراہیں اور بلند خام ملکی پیداوار (جی ڈی پی) لیکن سچ پوچھیے تو صحیح معنوں میں ترقی کا پیمانہ اعداد و شمار نہیں بلکہ عوام ہیں۔ ترقی کے اصل معنی عوام کی زندگی کو بہتر بنانا ہے بالخصوص وہ لوگ جو پسماندہ ہیں۔

آمدنی میں عدم مساوات پاکستان کا دائمی مسئلہ ہے جو معاشی ترقی، سماجی استحکام اور غربت میں کمی پر اثر انداز ہوتا ہے۔پاکستان کو معاشی عدم توازن اور پالیسیوں کے نفاذ کی وجہ سے کافی جدوجہد کرنا پڑی ہے۔ شہری اور دیہی آبادی میں عدم مساوات کی وجہ سے بہت سے مسائل جنم لے رہے ہیں اور یہ خلیج رفتہ رفتہ وسیع سے وسیع تر ہو رہی ہے۔ امیر اور غریب کے درمیان تفاوت بڑھتا جارہا ہے۔

عدم مساوات کا بنیادی سبب تعلیم اور ہنر مندی تک رسائی نہ ہونا ہے۔ ہمارا نظامِ تعلیم انتہائی فرسودہ ہے جو عصرِ حاضر کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا اور کم آمدنی والے طبقات اس کی پہنچ سے باہر ہیں جس کی وجہ سے ان کے لیے روزگار کے مواقعے بہت ہی محدود ہوجاتے ہیں۔

علاوہ ازیں معیشت میں ساختی مسائل عدم مساوات کی ایک بہت بڑی وجہ ہیں۔ آبادی کا ایک بہت اہم حصہ غیر رسمی شعبے میں ملازمت پیشہ ہے لیکن اس سے وابستہ ملازمین کے سر پر تلوار لٹکتی رہتی ہے کہ نہ جانے اسے کب نوکری سے نکال دیا جائے۔ ان بیچاروں کو ان کی محنت کا معقول صلہ بھی نہیں ملتا۔ صنعتی اور سروس سیکٹر سرمایہ دارانہ پیداوار کے لیے موافق ہیں جس کی وجہ سے کم ہنرمند افراد کے لیے روزگار کے مواقعے محدود ہوجاتے ہیں۔

معاشرہ انتہائی عدم مساوات کا شکار ہے جس میں امیر اور غریب طبقہ کے درمیان تقسیم علاقہ تک ہی محدود نہیں بلکہ اس میں گروہی اور مذہبی شناخت بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ علاقائی تفاوت کا بھی ایک اہم کردار ہے۔ صوبوں کے درمیان معاشی ترقی بھی غیر متوازن ہے جس میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے بڑے شہری مراکز دیہی علاقوں کی بہ نسبت فائدہ اٹھا رہے ہیں جب کہ دیہی علاقوں میں زراعت آمدنی کا غالب ذریعہ ہے جو جدت اور سرمایہ کاری سے محروم ہے۔

پاکستان کی پہلی نیشنل ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ 2003 میں شایع ہوئی تھی جس میں پہلی بار چاروں صوبوں کے درمیان عدم مساوات کی نشاندہی کی گئی تھی۔ پاکستان کی تیسری این ایچ ڈی آر رپورٹ 2021 میں شایع ہوئی جس میں پاکستان کو درپیش عدم مساوات پر مزید تجزیہ کیا گیا ہے۔پاکستان کو مدتِ دراز سے غیر مساوی معاشی ترقی کا مسئلہ درپیش ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ بعض صوبوں اور اضلاع میں صورتحال ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ کہیں ترقی زیادہ ہے اور کہیں پسماندگی۔این ایچ ڈی آر 2020 کے مطابق پاکستان میں بلوچستان کے علاوہ تمام صوبوں میں فی کس مجموعی علاقائی پیداوار بڑھ رہی ہے۔

سی پیک پر عمل درآمد کے باوجود بلوچستان ابھی تک پسماندگی کا شکار ہے۔ بلوچستان اور سندھ میں غربت زیادہ ہے۔ انسانی ترقی کے اشاریہ کے لحاظ سے سندھ پہلے جب کہ پنجاب دوسرے اور کے پی کے تیسرے نمبر پر ہے۔ اس فہرست میں بھی بلوچستان کا نمبر آخری ہے۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں بھی عدم مساوات اور ناہمواریاں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر جنوبی پنجاب میں آمدنی اور انسانی ترقی کی صورتحال باقی صوبہ کی بہ نسبت زیادہ تسلی بخش نہیں ہے۔

شہری اور دیہی علاقوں میں ناہمواریوں کی تصویر مختلف ہے۔ این ایچ ڈی آر کے محققین کے مطابق تمام صوبوں کے شہری علاقوں میں فی کس خام ملکی پیداوار زیادہ ہے لیکن اس کے ساتھ ہی شہری علاقوں میں آمدنی میں عدم مساوات بھی زیادہ ہے۔ صنفی تفاوت مسئلہ کو مزید بڑھاتا ہے۔ عمومی طور پر مردوں کے مقابلہ میں خواتین زیادہ غربت کا شکار ہیں۔

آمدنی میں عدم مساوات سے نبرد آزما ہونے کے لیے مشاورتی پالیسیوں پر عمل درآمد ضروری ہے۔ عمدہ تعلیم تک رسائی اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگرام کی توسیع کی بدولت ملازمت کے ذرایع اور کم آمدنی والے طبقوں کی آمدن میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میں عدم مساوات علاقوں میں کے درمیان کی وجہ سے زیادہ ہے کے لیے

پڑھیں:

پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم

اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔

وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی

وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔

متعلقہ مضامین

  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ