جدید پاسپورٹ: پاکستان 100 بہترین ملکوں میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (آن لائن) ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کی جانب سے سال 2025 کی رینکنگ جاری کردی گئی جس میں پاکستانی پاسپورٹ بتدریج ترقی کے بعد ٹاپ 100 پاسپورٹس میں شامل ہوگیا، ڈی جی پاسپورٹ نے کہا کہ جلد ہی پاسپورٹ ایپ کے ذریعے شہری گھر بیٹھے پاسپورٹ بنوا سکیں گے، وزارت داخلہ کے تعاون سے پاسپورٹ رینکنگ میں بہتری کا سفر جاری رہے گا۔ رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی رینکنگ پلیٹ فارم ’’ہینلے اینڈ پارٹنرز‘‘ نے کہا کہ پاکستانی پاسپورٹ اس وقت 100ویں نمبر پر ہے، جو 2021 میں 113ویں نمبر پر تھا۔ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے جو عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں اور عالمی تعلقات میں بہتری کی عکاس ہے۔ تازہ ترین پیش رفت کے تحت، متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے مطابق سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کو ویزے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس معاہدے کے بعد ایسے افراد کو سفر سے پہلے ویزہ کے لیے درکار رسمی کارروائیوں سے نجات ملے گی، جو سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔رپورٹ کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ پر شہری 32 ممالک میں ویزہ فری سفری سہولت بھی حاصل کر سکیں گے۔ اس پیش رفت پر رد عمل دیتے ہوئے ڈی جی پاسپورٹس کی جانب سے پاسپورٹ رینکنگ میں بہتری پر قوم کو مبارکباد دی جب کہ وزیر داخلہ محسن نقوی اور سیکرٹری داخلہ کے خصوصی تعاون پر اظہار تشکر کیا۔ مصطفی جمال قاضی ڈی جی پاسپورٹس نے کہا کہ پاکستانی پاسپورٹ میں جدید سیکورٹی فیچرز متعارف کروائے گئے ہیں، ای پاسپورٹس ہولڈرز کے لیے جلد تمام ائرپورٹس پر ای گیٹس کی سہولت میسر ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاسپورٹ بنوانے آنے والوں کو جدید سہولیات کے تحت بروقت ڈیل کیا جا رہا ہے، پاکستان سمیت دنیا بھر میں پاسپورٹ بیگ لاک مکمل طور پر صفر ہے، پاکستانیوں کے لیے آن لائن پاسپورٹ سروسز بھی فراہم کی جا رہی ہیں، پاسپورٹ آسان فیس ایپ کے ذریعے فیس سیکنڈز میں ادا کی جا سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستانی پاسپورٹ پاسپورٹ ا
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ کے وژنری اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔ ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔ رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔