Daily Ausaf:
2026-06-03@04:42:16 GMT

’’پانی کی پکار: جنگ کا خدشہ‘‘

اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT

(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ مکمل سپیکٹرم ڈیٹرنس بیان پاکستان کی فوجی پالیسی سے ہم آہنگ ہے، جو جوہری ہتھیاروں کوبھی شامل کرتاہے،پورے خطے کی آبی اور عسکری سلامتی کوخطرے میں ڈال دیاہے جبکہ پاکستان کاردِعمل ایک زخمی سناٹے کی طرح ہے جوکہہ رہاہے:’’مت کھیل میرے آنگن کے پانی سے،یہ میری رگوں میں دوڑتی زندگی ہے‘‘ ۔آخری بات یہ ہے کہ پانی کاتنازعہ انڈیااورپاکستان کیلئے وجودی خطرہ ہے،لیکن تاریخ اور جوہری توازن جنگ کو’’لاکھوں موتوں‘‘ والے منظرتک پہنچنے سے روکتے ہیں۔دونوں ممالک کیلئے ضروری ہے کہ وہ پانی کو ’’ہتھیار‘‘ بنانے کی بجائے’’مشترکہ وسائل”‘‘کے طورپر دیکھیں،کیونکہ موسمیاتی تبدیلیاں کسی کونہیں چھوڑیں گی۔
جب دوایٹمی طاقتیںبھارت اورپاکستان کسی تنازعے کی دہلیزپرکھڑی ہوں،تویہ مسئلہ صرف دوریاستوں کے درمیان نہیں رہتا؛یہ ایک ایسا عالمی خطرہ بن جاتا ہے جو سرحدوں، براعظموں، اور نسلوں تک پھیل سکتا ہے۔ اگر خدانخواستہ ان دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ چھڑ جائے، تو اس کے اثرات صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں ہوں گے، بلکہ پوری انسانیت اس کی لپیٹ میں آجائے گی۔انڈیااورپاکستان کی ممکنہ ایٹمی جنگ کے دنیاپرکیااثرات مرتب ہوسکتے ہیں،کسی بھی ذی شعورپرخوف کی جھرجھری طاری ہوجاتی ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق اگردونوں ممالک ایک دوسرے پرمحدودایٹمی حملے کرتے ہیں تو ابتدائی حملوں میں12کروڑافرادسے کہیں زیادہ فوری طورپرلقمہ اجل بن سکتے ہیں۔بڑے شہر (مثلاً دہلی، کراچی،لاہور،ممبئی اوردیگردرجن شہر) صفحہ ہستی سے مٹ سکتے ہیں،جہاں لاکھوں لوگ فوری تابکاری،آگ اوردباکی لہروں سے ہلاک ہوجائیں گے۔بنیادی ڈھانچے‘ ہسپتال، سڑکیں، توانائی کے مراکز مفلوج ہوجائیں گے۔
ایٹمی دھماکوں سے پیداہونے والادھواں اور راکھ فضامیں بلندہوکرسورج کی روشنی کو روکے گا،جس سے درجہ حرارت کئی ڈگری نیچے آجائے گا،اسے نیوکلیئرونٹرکہاجاتاہے اس کے ہولناک ماحولیاتی اثرات کی وجہ سے فصلوں کی پیداوار متاثرہوگی،غذائی قلت کااندیشہ ہوگا، اور بالخصوص افریقا،مشرق وسطی اورلاطینی امریکاجیسے خطے اس کے غیرمتناسب شکارہوں گے۔عالمی سطح پر خوراک کی قلت،قیمتوں میں اضافہ،اورقحط کاخدشہ ناقابل یقین حدتک بڑھ جائے گا۔
دنیاکی دوبڑی معیشتیںچین اور امریکا بھارت اورپاکستان کے حلیف یامفادیافتہ ممالک ہیں۔ جنگ ان کوبالواسطہ طورپرکھینچ سکتی ہے۔ اگرخاکم بدہن ایساہوگیاتوپھرجس قیامت کاوعدہ ہے،وہ پوراہوجائے گا۔اگرمعاملہ یہاں تک نہیں پہنچتاتواس کے باوجودان دوملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ کے نتیجے میں اقوام متحدہ،نیٹو،روس،ترکی اورخلیجی ممالک پردبابڑھے گاکہ وہ کسی ایک طرف کاساتھ دیں یاثالثی کریں۔علاوہ ازیں عالمی سیاسی اوراقتصادی اثرات کی بناپرجنوبی ایشیاعالمی تجارتی روٹس(بحیرہ عرب، گوادر، ممبئی، چٹاگانگ) کامرکزہے۔جنگ ان راستوں کومعطل کرسکتی ہے،جس سے عالمی تجارت کونقصان پہنچے گا۔
ایٹمی جنگ ہوتی ہے تو پناہ گزینوں کاایسابحران پیداہوگاجس میں10کروڑسے زائد افراد بے گھرہوسکتے ہیں۔ایران،افغانستان،بنگلہ دیش، نیپال اورچین جیسے ممالک کوپناہ گزینوں کے بڑے ریلے کاسامناہوگا۔یورپ کوبھی ایک نیا پناہ گزین بحران درپیش آسکتاہے، جوپہلے ہی یوکرین،شام اورسوڈان سے متاثرہے۔
جنگ کوہندومسلم کشمکش کارنگ دینے کی کوشش کی جاسکتی ہے،جس سے بین الاقوامی سطح پراسلاموفوبیاکوتقویت ملے گی۔ عالمی میڈیا اور سیاسی ادارے اس تنازعے کونظریاتی تصادم کے طورپر بیان کرسکتے ہیں،جوبین الاقوامی ہم آہنگی کومزیدکمزور کرے گا۔یادرہے کہ یہودی نژاد ہنری کیسینجر کا’’ون ورلڈآرڈر‘‘اسی نظریہ پر ترتیب دیاگیاہے کہ گریٹراسرائیل کی ساری دنیا پرحکومت ہو گی جبکہ مسلمانوں کابھی ایمان ویقین ہے کہ دجال کے زمانے میں امام مہدی کے نزول کے بعدساری دنیامیں اسلام کی حکمرانی ہو گی اور غزوہ ہندکی پیشینگوئی بھی موجودہے۔
٭جنگ کے بعددنیامیں ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف ایک نئی اخلاقی وقانونی تحریک جنم لے سکتی ہے۔ایٹمی عدم پھیلاجیسے معاہدوں پر عملدرآمد کا دباؤ بڑھے گا۔ایٹمی طاقتوں کی شفافیت اور کنٹرول کی مانگ دنیابھرمیں زورپکڑے گی۔
٭خطے میں جنگی ذہنیت کاپھیلائو،اسلحہ کی دوڑ، اورجنوبی ایشیائی خطے میں داخلی سیاسی عدم استحکام بڑھے گا۔
٭پاکستان اوربھارت میں سول سوسائٹی، معیشت،تعلیم اورعوامی خدمات کانظام پاش پاش ہوجائے گا۔
٭ایک ممکنہ ایٹمی جنگ نہ صرف ایک جغرافیائی مسئلہ ہے،بلکہ یہ اخلاقی،انسانی اورتہذیبی بحران کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔ پاکستان اور بھارت کی قیادت کوچاہیے کہ وہ عقل، تدبیر، اوربین الاقوامی مکالمے کاراستہ اختیارکریں۔
عالمی برادری،بالخصوص اوآئی سی،اقوامِ متحدہ،یورپی یونین،اورچین،کوچاہیے کہ فوری، غیرجانبداراوردیرپاثالثی کاکرداراداکریں اور مودی اوراس کے آقائوں جیسے خونخواربھیڑیوں سے دنیا کوبچانے کیلئے ایک عالمگیرتحریک چلائیں تاکہ دنیاکودرپیش خطرات اور تباہی کے کنارے سے واپس لایاجاسکے۔
مجھے یقینِ کامل ہے کہ اگران سفارشات پر فوری عملدرآمدشروع کیاجائے تودنیاکوممکنہ تباہی سے بچایاجاسکتاہے۔
٭اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں فوری قراردادبرائے ایٹمی کشیدگی میں کمی پر عملدرآمدکروایاجائے۔
٭جنوبی ایشیائی خطے کیلئے ایٹمی ہتھیاروں سے پاک عالمی زون پربات چیت کاآغازکیاجائے۔
٭پاکستان،ایران،بھارت،چین اور افغانستان کے درمیان پنج فریقی امن فورم کی تشکیل دی جائے۔
٭میڈیااورعوامی بیانیے میں نفرت اور تصادم کی زبان کے خلاف عالمی ضابطہ اخلاق نافذ کیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کے درمیان ایٹمی جنگ جائے گا

پڑھیں:

میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب

دنیا کے سب سے مقبول کھیل فٹبال کا سب سے بڑا ایونٹ، فیفا ورلڈ کپ 2026، 12 جون سے امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں شروع ہو رہا ہے۔ اس بار ٹورنامنٹ کئی حوالوں سے تاریخ ساز ثابت ہونے جا رہا ہے، کیونکہ پہلی مرتبہ 48 قومی ٹیمیں عالمی اعزاز کے حصول کے لیے میدان میں اتریں گی جبکہ مجموعی طور پر 1248 کھلاڑی اس عظیم مقابلے کا حصہ ہوں گے۔

1248 players. 48 nations. Locked in. ????

The Official Squad Lists for #FIFAWorldCup 2026 are here ⤵️

— FIFA World Cup (@FIFAWorldCup) June 2, 2026

فیفا کی جانب سے تمام 48 ٹیموں کے حتمی اسکواڈز کی منظوری کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ورلڈ کپ 2026 کھلاڑیوں، ٹیموں اور میچوں کی تعداد کے اعتبار سے تاریخ کا سب سے بڑا فٹبال ٹورنامنٹ ہوگا۔ ایونٹ میں شریک ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ میں چار چار ٹیمیں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جائیں گے، جو سابقہ ورلڈ کپ ایڈیشنز کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ: امریکا نے ایرانی فٹبال ٹیم کو قیام کی اجازت نہیں دی، ٹیم میکسیکو میں رہے گی

میڈیا رپورٹس کے مطابق 1248 کھلاڑیوں میں سے 357 ایسے ہیں جو پہلے بھی ورلڈ کپ کھیل چکے ہیں، جبکہ 891 کھلاڑی پہلی مرتبہ اس عالمی اسٹیج پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔ ماہرین کے مطابق نئے اور تجربہ کار کھلاڑیوں کا یہ امتزاج ٹورنامنٹ کو مزید دلچسپ اور غیر متوقع بنا سکتا ہے۔

World Cup is exactly TWO weeks away. ???? #FIFA pic.twitter.com/NFDxw8uKlO

— World Cup 2026 (@WorldCupMedia) May 28, 2026

بین الاقوامی میڈیا نے ورلڈ کپ 2026 کو ’فٹبال کی تاریخ کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ جامع عالمی مقابلہ‘ قرار دیا ہے۔ عالمی نشریاتی اداروں کا کہنا ہے کہ ٹیموں کی تعداد میں اضافے سے نہ صرف مقابلہ زیادہ سخت ہوگا بلکہ دنیا کے نئے خطوں اور ابھرتی ہوئی فٹبال قوموں کو بھی عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملے گا۔

اس ورلڈ کپ کی ایک اور نمایاں خصوصیت عالمی فٹبال کے دو عظیم ترین ستاروں، لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو، کی ممکنہ تاریخی شرکت ہے۔ دونوں کھلاڑی اپنے چھٹے ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے تیار ہیں۔ میکسیکو کے تجربہ کار گول کیپر گیلرمو اوچوا بھی چھٹی مرتبہ ورلڈ کپ کھیلنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہیں، جو عالمی فٹبال میں ایک منفرد ریکارڈ تصور کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا

ورلڈ کپ 2026 کئی نئی قومی ٹیموں کے لیے بھی یادگار ثابت ہوگا۔ کیپ ورڈے، کوراساؤ، اردن اور ازبکستان پہلی بار فیفا ورلڈ کپ کے فائنل مرحلے میں پہنچے ہیں۔ ان ٹیموں کی شمولیت کو فٹبال کی عالمی توسیع اور کھیل کے بڑھتے ہوئے دائرہ اثر کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

عمر کے اعتبار سے بھی اس بار ٹورنامنٹ منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ ایونٹ میں شامل سب سے کم عمر کھلاڑی کی عمر صرف 17 برس ہے جبکہ سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی 43 سال کے ہیں۔ ٹورنامنٹ میں 7 ایسے کھلاڑی شریک ہیں جن کی عمر 40 برس سے زیادہ ہے، جبکہ 22 کھلاڑی 20 سال سے کم عمر ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار نوجوان ٹیلنٹ اور تجربے کے دلچسپ امتزاج کی عکاسی کرتے ہیں۔

The 2026 FIFA World Cup ???? ⚽ is making its triumphant return to North America, sparking huge excitement across the continent for the world's biggest football tournament, which kicks off on June 11 in Mexico.

Here's your quick guide ????https://t.co/li1RCedN1h

— TRT World (@trtworld) June 1, 2026

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی نہ صرف شمالی امریکا میں فٹبال کی مقبولیت کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی بلکہ عالمی سطح پر بھی کھیل کی تجارتی اور ثقافتی اہمیت میں اضافہ کرے گی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ٹورنامنٹ ناظرین، آمدنی اور ڈیجیٹل رسائی کے کئی نئے ریکارڈ قائم کرے گا۔

فٹبال شائقین کی نظریں اب 12 جون پر مرکوز ہیں، جب دنیا بھر کی 48 بہترین ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے اپنی مہم کا آغاز کریں گی اور تاریخ کے سب سے بڑے فیفا ورلڈ کپ کا باقاعدہ افتتاح ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رونالڈو فٹبال ورلڈ کپ 2026 فیفا ورلڈ کپ میسی

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا