Daily Ausaf:
2026-06-03@04:21:26 GMT

’’پانی کی پکار: جنگ کا خدشہ‘‘

اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT

(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ مکمل سپیکٹرم ڈیٹرنس بیان پاکستان کی فوجی پالیسی سے ہم آہنگ ہے، جو جوہری ہتھیاروں کوبھی شامل کرتاہے،پورے خطے کی آبی اور عسکری سلامتی کوخطرے میں ڈال دیاہے جبکہ پاکستان کاردِعمل ایک زخمی سناٹے کی طرح ہے جوکہہ رہاہے:’’مت کھیل میرے آنگن کے پانی سے،یہ میری رگوں میں دوڑتی زندگی ہے‘‘ ۔آخری بات یہ ہے کہ پانی کاتنازعہ انڈیااورپاکستان کیلئے وجودی خطرہ ہے،لیکن تاریخ اور جوہری توازن جنگ کو’’لاکھوں موتوں‘‘ والے منظرتک پہنچنے سے روکتے ہیں۔دونوں ممالک کیلئے ضروری ہے کہ وہ پانی کو ’’ہتھیار‘‘ بنانے کی بجائے’’مشترکہ وسائل”‘‘کے طورپر دیکھیں،کیونکہ موسمیاتی تبدیلیاں کسی کونہیں چھوڑیں گی۔
جب دوایٹمی طاقتیںبھارت اورپاکستان کسی تنازعے کی دہلیزپرکھڑی ہوں،تویہ مسئلہ صرف دوریاستوں کے درمیان نہیں رہتا؛یہ ایک ایسا عالمی خطرہ بن جاتا ہے جو سرحدوں، براعظموں، اور نسلوں تک پھیل سکتا ہے۔ اگر خدانخواستہ ان دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ چھڑ جائے، تو اس کے اثرات صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں ہوں گے، بلکہ پوری انسانیت اس کی لپیٹ میں آجائے گی۔انڈیااورپاکستان کی ممکنہ ایٹمی جنگ کے دنیاپرکیااثرات مرتب ہوسکتے ہیں،کسی بھی ذی شعورپرخوف کی جھرجھری طاری ہوجاتی ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق اگردونوں ممالک ایک دوسرے پرمحدودایٹمی حملے کرتے ہیں تو ابتدائی حملوں میں12کروڑافرادسے کہیں زیادہ فوری طورپرلقمہ اجل بن سکتے ہیں۔بڑے شہر (مثلاً دہلی، کراچی،لاہور،ممبئی اوردیگردرجن شہر) صفحہ ہستی سے مٹ سکتے ہیں،جہاں لاکھوں لوگ فوری تابکاری،آگ اوردباکی لہروں سے ہلاک ہوجائیں گے۔بنیادی ڈھانچے‘ ہسپتال، سڑکیں، توانائی کے مراکز مفلوج ہوجائیں گے۔
ایٹمی دھماکوں سے پیداہونے والادھواں اور راکھ فضامیں بلندہوکرسورج کی روشنی کو روکے گا،جس سے درجہ حرارت کئی ڈگری نیچے آجائے گا،اسے نیوکلیئرونٹرکہاجاتاہے اس کے ہولناک ماحولیاتی اثرات کی وجہ سے فصلوں کی پیداوار متاثرہوگی،غذائی قلت کااندیشہ ہوگا، اور بالخصوص افریقا،مشرق وسطی اورلاطینی امریکاجیسے خطے اس کے غیرمتناسب شکارہوں گے۔عالمی سطح پر خوراک کی قلت،قیمتوں میں اضافہ،اورقحط کاخدشہ ناقابل یقین حدتک بڑھ جائے گا۔
دنیاکی دوبڑی معیشتیںچین اور امریکا بھارت اورپاکستان کے حلیف یامفادیافتہ ممالک ہیں۔ جنگ ان کوبالواسطہ طورپرکھینچ سکتی ہے۔ اگرخاکم بدہن ایساہوگیاتوپھرجس قیامت کاوعدہ ہے،وہ پوراہوجائے گا۔اگرمعاملہ یہاں تک نہیں پہنچتاتواس کے باوجودان دوملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ کے نتیجے میں اقوام متحدہ،نیٹو،روس،ترکی اورخلیجی ممالک پردبابڑھے گاکہ وہ کسی ایک طرف کاساتھ دیں یاثالثی کریں۔علاوہ ازیں عالمی سیاسی اوراقتصادی اثرات کی بناپرجنوبی ایشیاعالمی تجارتی روٹس(بحیرہ عرب، گوادر، ممبئی، چٹاگانگ) کامرکزہے۔جنگ ان راستوں کومعطل کرسکتی ہے،جس سے عالمی تجارت کونقصان پہنچے گا۔
ایٹمی جنگ ہوتی ہے تو پناہ گزینوں کاایسابحران پیداہوگاجس میں10کروڑسے زائد افراد بے گھرہوسکتے ہیں۔ایران،افغانستان،بنگلہ دیش، نیپال اورچین جیسے ممالک کوپناہ گزینوں کے بڑے ریلے کاسامناہوگا۔یورپ کوبھی ایک نیا پناہ گزین بحران درپیش آسکتاہے، جوپہلے ہی یوکرین،شام اورسوڈان سے متاثرہے۔
جنگ کوہندومسلم کشمکش کارنگ دینے کی کوشش کی جاسکتی ہے،جس سے بین الاقوامی سطح پراسلاموفوبیاکوتقویت ملے گی۔ عالمی میڈیا اور سیاسی ادارے اس تنازعے کونظریاتی تصادم کے طورپر بیان کرسکتے ہیں،جوبین الاقوامی ہم آہنگی کومزیدکمزور کرے گا۔یادرہے کہ یہودی نژاد ہنری کیسینجر کا’’ون ورلڈآرڈر‘‘اسی نظریہ پر ترتیب دیاگیاہے کہ گریٹراسرائیل کی ساری دنیا پرحکومت ہو گی جبکہ مسلمانوں کابھی ایمان ویقین ہے کہ دجال کے زمانے میں امام مہدی کے نزول کے بعدساری دنیامیں اسلام کی حکمرانی ہو گی اور غزوہ ہندکی پیشینگوئی بھی موجودہے۔
٭جنگ کے بعددنیامیں ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف ایک نئی اخلاقی وقانونی تحریک جنم لے سکتی ہے۔ایٹمی عدم پھیلاجیسے معاہدوں پر عملدرآمد کا دباؤ بڑھے گا۔ایٹمی طاقتوں کی شفافیت اور کنٹرول کی مانگ دنیابھرمیں زورپکڑے گی۔
٭خطے میں جنگی ذہنیت کاپھیلائو،اسلحہ کی دوڑ، اورجنوبی ایشیائی خطے میں داخلی سیاسی عدم استحکام بڑھے گا۔
٭پاکستان اوربھارت میں سول سوسائٹی، معیشت،تعلیم اورعوامی خدمات کانظام پاش پاش ہوجائے گا۔
٭ایک ممکنہ ایٹمی جنگ نہ صرف ایک جغرافیائی مسئلہ ہے،بلکہ یہ اخلاقی،انسانی اورتہذیبی بحران کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔ پاکستان اور بھارت کی قیادت کوچاہیے کہ وہ عقل، تدبیر، اوربین الاقوامی مکالمے کاراستہ اختیارکریں۔
عالمی برادری،بالخصوص اوآئی سی،اقوامِ متحدہ،یورپی یونین،اورچین،کوچاہیے کہ فوری، غیرجانبداراوردیرپاثالثی کاکرداراداکریں اور مودی اوراس کے آقائوں جیسے خونخواربھیڑیوں سے دنیا کوبچانے کیلئے ایک عالمگیرتحریک چلائیں تاکہ دنیاکودرپیش خطرات اور تباہی کے کنارے سے واپس لایاجاسکے۔
مجھے یقینِ کامل ہے کہ اگران سفارشات پر فوری عملدرآمدشروع کیاجائے تودنیاکوممکنہ تباہی سے بچایاجاسکتاہے۔
٭اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں فوری قراردادبرائے ایٹمی کشیدگی میں کمی پر عملدرآمدکروایاجائے۔
٭جنوبی ایشیائی خطے کیلئے ایٹمی ہتھیاروں سے پاک عالمی زون پربات چیت کاآغازکیاجائے۔
٭پاکستان،ایران،بھارت،چین اور افغانستان کے درمیان پنج فریقی امن فورم کی تشکیل دی جائے۔
٭میڈیااورعوامی بیانیے میں نفرت اور تصادم کی زبان کے خلاف عالمی ضابطہ اخلاق نافذ کیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کے درمیان ایٹمی جنگ جائے گا

پڑھیں:

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب ہو گئے ہیں جسے عالمی سفارت کاری میں بنگلہ دیش کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے وزیر برائے چٹاگانگ ہل ٹریکٹس افیئرز خرابی صحت کے باعث مستعفی

منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں ہونے والے انتخاب میں ڈاکٹر خلیل الرحمان نے قبرص کے امیدوار کو شکست دے کر یہ اہم منصب حاصل کیا۔

مبصرین کے مطابق یہ کامیابی عالمی سطح پر بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار، کثیرالجہتی تعاون اور بین الاقوامی اداروں میں اس کی مضبوط ہوتی ساکھ کا مظہر ہے۔

وزیراعظم طارق رحمان نے ڈاکٹر خلیل الرحمان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کا انتخاب عالمی سطح پر بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور مثبت کردار کا اعتراف ہے۔

مزید پڑھیے: سابق صدر بنگلہ دیش ضیاء الرحمان کی 45ویں برسی: صاحبزادے و وزیراعظم طارق رحمان کا خراج عقیدت

اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا صدر منتخب ہونے پر وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اس اہم منصب پر بنگلہ دیش کی بہترین نمائندگی کریں گے اور عالمی برادری کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے رابطوں، مکالمے اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ وہ بنگلہ دیش کا نام مزید روشن کریں گے اور عالمی مسائل کے حل کے لیے تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ان کی نئی ذمہ داریوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔‘

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں چمڑے کی منڈی بحران کا شکار، مدارس اور یتیم خانوں کو خسارہ، وجہ کیا ہے؟

ڈاکٹر خلیل الرحمان جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے باقاعدہ آغاز پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ اس حیثیت میں وہ عالمی امن و سلامتی، پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، عالمی حکمرانی اور دیگر اہم بین الاقوامی امور پر ہونے والے مباحث اور اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے ڈاکٹر خلیل الرحمان خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب طارق رحمان کی ڈاکٹر خلیل رحمان کو مبارکباد

متعلقہ مضامین

  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا