این ڈی ایم اے نے طوفانی بارشوں کا الرٹ جاری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ملک کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے, محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کا امکان بھی ظاہر کردیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آج سے 10 جولائی تک پنجاب سمیت خیبر پختونخوا، کشمیر، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور پوٹھوہار ریجن میں موسلادھار بارش کا امکان ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق گلگت، سکردو، ہنزہ، دیامر اور شگر میں بھی بارشوں سے سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔آج سے 10جولائی کے دوران مظفرآباد، وادی نیلم، حویلی اور باغ میں بھی موسلادھار بارش کی توقع ہے۔سکھر، نوابشاہ، کشمور، حیدرآباد، کراچی، بدین، ٹھٹھہ، تھرپارکر، میرپور خاص، مٹھی، گھوٹکی، خیرپور، شکارپور، لاڑکانہ، جیکب آباد اور دادو میں بھی بارشیں ہونے کی توقع ہے۔ کوئٹہ، ژوب، زیارت، قلات، خضدار، آواران، بارکھان، جعفرآباد، کوہلو، سبی، ڈیرہ بگٹی، لورالائی، لسبیلہ اور نصیرآباد میں بھی بارش کا امکان ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق 7جولائی سے شمالی اور وسطی پنجاب کے شہروں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے، دریائے سندھ، جہلم اورچناب میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کاامکان ہے، راوی، ستلج اوردریائے کابل میں بھی 7جولائی سے پانی کے بہاؤ میں اضافے کاامکان ہے۔مشرقی بلوچستان اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے پہاڑی ندی نالوں میں بھی فلیش فلڈنگ کاخدشہ ہے۔
این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ بارشوں کے باعث شہری علاقوں میں ممکنہ طور پر سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے، بارشوں سے اربن فلڈنگ اور لینڈ سلائیڈنگ کا اندیشہ ہے۔شہریوں کو الرٹ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بارش کمزور تعمیرات، کچی دیواروں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہیں، آندھی اور طوفان کے دوران حد نگاہ بھی کم ہو سکتی ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈی ایم اے میں بھی کا خدشہ خدشہ ہے
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔