اسرائیلی فورسز کی جانب سے غزہ پر جاری فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں اتوار کے روز 82 فلسطینیوں کی شہادتوں کی تصدیق  ہوئی ہے، جن میں 10 ایسے افراد بھی شامل ہیں جو خوراک کی امداد کے منتظر تھے۔

غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے نتیجہ میں اب تک 57,418 فلسطینی شہید اور 136,261 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

یہ اعداد و شمار جنگ کے تباہ کن اثرات کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں پورے علاقے میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور انسانیت سوز حالات نے ایک سنگین انسانی بحران پیدا کر دیا ہے۔

امریکا کو جنگ بندی کی توقع

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کی امید ظاہر کی ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان اس ہفتے ایک جنگ بندی معاہدہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق، ’اب بھی ایک اچھا موقع ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان جنگ بندی پر بات چیت کامیاب ہو جائے۔‘

ٹرمپ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو واشنگٹن، ڈی سی پہنچنے والے ہیں، دوسری طرف قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔

غزہ میں انسانی بحران

غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ وہاں، ہزاروں افراد اب بھی نہ صرف فضائی حملوں کی زد میں ہیں، بلکہ خوراک، پانی اور طبی امداد کی کمی بھی شدت اختیار کر چکی ہے۔

اسرائیل کی جارحیت کے نتیجے میں کئی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں، اور بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ صحت کے نظام پر بھی شدید دباؤ ہے، جس سے زخمیوں کو علاج فراہم کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔ اس صورتحال میں عالمی سطح پر جنگ بندی کی کوششیں بڑھتی جا رہی ہیں۔

 اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور کئی دیگر عالمی طاقتیں غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی اور جنگ بندی کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم