سندھ حکومت نے قربانی کی کھالیں جمع کرنے کا ضابطہ اخلاق جاری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
اعلامیے کے مطابق کالعدم تنظیم کو کھالیں جمع کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، کھالیں جمع کرنے کے لیے کیمپ اور بینر لگانے کی اجازت نہیں ہوگی، عمارتوں پر جھنڈے اور لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اعلانات کرنے پر پابندی ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ حکومت نے عیدالاضحی پر قربانی کی کھالیں جمع کرنے کا ضابطہ اخلاق جاری کردیا۔ اس حوالے سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق کھالیں جمع کرنے کے لیے متعلقہ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کی اجازت لینی ضروری ہے، کمشنر اور ڈی سی رجسٹرڈ فلاحی اداروں، مدارس اور خیراتی اداروں کو اجازت نامہ دیں گے۔ اعلامیے کے مطابق کالعدم تنظیم کو کھالیں جمع کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، کھالیں جمع کرنے کے لیے کیمپ اور بینر لگانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عمارتوں پر جھنڈے اور لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اعلانات کرنے پر پابندی ہوگی، انتظامیہ کی جانب سے جاری اجازت نامہ کھالیں جمع کرانے کے دوران ساتھ رکھنا لازم ہوگا۔ اعلامیے کے مطابق اسلحہ رکھنے سے متعلق تمام اجازت نامے 10 سے 12 ذی الحجہ تک معطل کردیے گئے ہیں، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف متعلقہ ایس ایچ او کو کارروائی کا اختیار ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی اجازت نہیں ہوگی اعلامیے کے مطابق کھالیں جمع کرنے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔