کہیں آپ بھی گوشت کے شوقین تو نہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
عموماً ہم کسی بھی عمل سے قبل اس کے نتائج پرغورنہیں کرتے اورجب کوئی عمل بیٹھتے ہیں تو نتائج کو قسمت پرچھوڑ کرخودکو بری الذمہ قرار دیتے ہیں۔عموماً ایسی صورت حال کا سامنا ہمیں عیدقربان پر کرنا پڑتا ہے کیونکہ قربانی کاگوشت گھر میں آتے ہی اس سے دودوہاتھ کرنے کے لیے مختلف ترکیبیںبنائی جاتی ہیں،ہرچھوٹے بڑے کی جانب سے مختلف قسم کی فرمائشیں اور مینیوزبھی سامنے آجاتے ہیں۔
ابھی قربانی ہو ہی رہی ہوتی ہے کہ سب سے پہلے کلیجی پکائی جاتی ہے ۔اسی لئے دوپہر کے کھانے میں ہرگھر میں آپ کوکلیجی کی ہانڈی پکتی اورتناول کی جاتی نظر آئے گی۔
یہ درست ہے کہ ہر تہوار کی اپنی الگ الگ پہچان ہوتی ہے اورعید قربان تو مختلف لذیذ اورچٹ پٹے پکوانوں کی وجہ سے اپنی مثال آپ ہے، لیکن اکثریت اس موقع پر ساری حدود پارکرلیتی ہے اورلوگ یوں کھانے پرٹوٹ پڑتے ہیں جیسے انھیں زندگی میں پہلی بارگوشت سے بنے پکوان نصیب ہوئے ہو۔ لیکن جب اس کے منفی اثرات سامنے آتے ہیں تو ہستپالوں کارخ کرتے ہیں ۔اسی لیے تو بسیار خوری کو ماہرین کی جانب سے ایک بیماری قراردیاگیا ہے جو انسانی صحت سے متعلق متعدد بیماریوں کا سبب بھی بنتا ہے۔ لہٰذا اس سے بچنا اور چھٹکارہ حاصل کرنا صحت مند زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔
غذائی ماہرین کے مطابق زیادہ کھانے کے سبب غذا سے ملنے والی اضافی طاقت یعنی کیلوریزانسانی جسم میں چربی بن کر محفوظ ہونا شروع ہوجاتی ہیں جس کے سبب انسان موٹاپے کاشکار ہوجاتا ہے، زیادہ کھانا اورکھانے کے دوران خود پرکنٹرول نہ رکھ پانا اوورایٹنگ یا بسیار خوری کہلاتاہے ۔ ایٹنگ ڈس آرڈر کے سبب انسان دن بہ دن موٹاہونے کے ساتھ ساتھ کْند ذہن بھی ہونے لگتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بسیار خوری پرکی گئی ایک تحقیق کے مطابق کم کھانے سے دماغ اورجسم متحرک رہتا ہے اور انسانی جسم میں موجود مشین کی مانند کام کرنے والے اعضاء کی کارکردگی بھی بہتر رہتی ہے، جبکہ زیادہ کھانے کی صورت میں جہاں جسم موٹاپے کا شکارہوجاتا ہے وہیں ذہن بھی کام کرنا چھوڑدیتا ہے۔
زیادہ کھانے کی صورت میں سب سے زیادہ متاثر انسانی جگر،دماغ اوردل ہوتاہے۔ اس کے علاوہ بسیارخوری کے سبب لاحق ہونے والی بیماریوں میں موٹاپا، گیسٹرو، معدے کے امراض، ذیابیطس،کولیسٹرول کی زیادتی، جوڑوں اور پٹھوں کا درد وغیرہ شامل ہیں۔
عموماً دیکھاگیا ہے کہ عید الضحٰی پرقربانی کے بعد ہرگھر کے فرج اورڈیپ فریزرزگوشت سے بھرچکے ہوتے ہیں، کہیں بار بی کیوپارٹیاں منعقد کی جا رہی ہوتی ہیں توکہیں چپلی کباب کی خوشبو بد پرہیزی پر اکسا رہی ہے،یہ سلسلہ نہ صرف اگلے کئی دنوں تک جاری رہتاہے بلکہ کچھ گھرانوں میں توکئی ماہ تک قربانی کامحفوظ شدہ گوشت استعمال ہوتارہتا ہے۔عیدکے موقع پربسیارخوری اور کثرتِ گوشت نوشی سے پہلے ہی ہسپتالوں میں مریضوں کی ایک بڑی تعداد پہنچ جاتی ہے،اور اس کے حوالے سے معالجین کاکہنا ہے کہ عید کے دنوں میں ہسپتال آنے والے بیشتر مریضوں کی بیماریوں کا تعلق بسیار خوری سے ہوتا ہے۔جو کے اعتدال سے ہٹنے کے سنگین نتائج کو واضح کرتی ہے۔
بالخصوص ایک ہی وقت میں بہت زیادہ گوشت کا استعمال فائدے کی بجائے نقصان کاباعث بنتا ہے۔ بڑی عید کے موقع پرگوشت کے استعمال میں اگر اعتدال سے کام نہ لیاجائے توپیٹ اورمعدے کے امراض لاحق ہو جاتے ہیں۔ہر سال بڑی عید کے موقع پرگوشت زیادہ کھانے کی وجہ سے معدے میں تیزابیت اور بدہضمی ہونے سے ایمرجنسی وارڈ میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
اس حوالے سے ماہرغذائیات شاہدہ جبین کہتی ہیں کہ عید الضحیٰ پر دیگر بیماریوں کے ساتھ ساتھ وزن بڑھنے کا بھی شدید خطرہ ہوتا ہے۔ان کے مطابق اوسط جسامت رکھنے والے افرادکوہفتے میں 350 سے 550 گرام گوشت اپنی خوراک میں استعمال کرنا چاہیے لیکن عید الضحیٰ کے موقع پرعموماً ہفتے کی مقدارایک دن میں ہی پوری کر لی جاتی ہے، عید الضحیٰ کے موقع پرصبح، دوپہر اورشام گوشت سے بنے پکوان اپنی خوراک کاحصہ بنائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے جسم میں پروٹین کی مقدارتو زیادہ ہوجاتی ہے لیکن ضرورت سے زیادہ مقدارمیں کھانا تناول کرنے سے نظام ہاضمہ میں پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔ماہرین کی رائے ہے کہ گوشت کے شیدائی افراد معتدل کھانے کے لیے دیگراشیا بالخصوص سبزیوں، پھلوں اور پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال ضروری کیا کریں ۔
شاہدہ جبین کہتی ہیں کہ عیدقربان پر کھانے میں بے اعتدالی سے بچنے کے لیے چربی سے پاک تیل اورگھی کے بغیر بننے پکوانوں کواپنی خوراک کاحصہ بناناچاہیے تاکہ فیٹس کم سے کم مقدار میں خوراک کا حصہ بنیں،ان کے خیال میں ذیابیطس کے مریضوں کو لال گوشت کے استعمال سے پرہیزکرناچاہیئے۔
طبی ماہرین ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کوبھی کم سے کم گوشت اورمصالحہ دار پکوانوں کے استعمال کامشورہ دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق گوشت کے پکوانوں کے ساتھ سافٹ ڈرنکس کا استعمال نظام انہضام کوبہترکرنے کی بجائے پیچیدہ بناتا ہے اوران میں موجودکاربوہائیڈریٹس انسانی جسم کے لیے نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ کھانے کے بعد سافٹ ڈرنکس کا استعمال زندگی کے لئے بھی خطرناک ہوسکتاہے ، کھاناکھانے کے بیس منٹ تک پانی پینے سے بھی گریزکرنا چاہیے۔
احتیاطی تدابیر
ماہرین غذائیات گوشت کی زیادہ مقدار کے استعمال کے بعد ورزش کوانتہائی ضروری قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق وزن کوکنٹرول میں رکھنے کے لیے آدھے گھنٹے تک چہل قدمی انتہائی ضروری ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ اگر گوشت کا استعمال انتہائی ضروری ہو تواس کوبار بی کیو بنا کر استعمال کرنا چاہیے۔ اگربار بی کیو میں مصالحہ جات کا استعمال کم سے کم کیاجائے تواسے ایک صحت مندغذا کہا جاسکتا ہے لیکن زیادہ مصالحے لگانے سے باربی کیو اوردیگر ڈشز میں کوئی خاص فرق نہیں رہ جاتا۔
بسیارخوری کے بجائے صحتمندکھانے کی عادت اپنائیں، چکنائی سے بھرپورکھانوں سے پرہیز کریں اور صحت مند کھانا پکانا اورکھانا شروع کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: زیادہ کھانے بسیار خوری کا استعمال کے استعمال کے مطابق کھانے کے کھانے کی گوشت کے جاتی ہے کے موقع کے سبب ہے اور کے لیے کہ عید
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔