آلو بخارے کھانے سے صحت پر مرتب ہونے والے 9 حیران کن فوائد
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آلو بخارا موسم گرما میں دستیاب ایک لذیذ اور صحت بخش پھل ہے جسے خشک کر کے بھی کھایا جاتا ہے۔
پوٹاشیم، سیلینیئم، وٹامن سی، وٹامن اے، بیٹا کیروٹین اور فائبر سے بھرپور یہ پھل دل، دماغ اور ہڈیوں کی صحت کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آلو بخارے میں اینٹی آکسائیڈنٹس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جس سے مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
یہ پھل بینائی بہتر بنانے، نظام ہاضمہ کی کارکردگی بہتر کرنے اور جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھنے میں بھی مددگار مانا جاتا ہے۔
خشک آلو بخارے کا استعمال ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے جبکہ اس میں موجود فائبر اور پانی سانس کی بو اور مسوڑھوں کے امراض سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آلو بخارا ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی مفید ہے کیونکہ اس میں قدرتی شکر کی مقدار کم ہوتی ہے اور بلڈ شوگر اچانک نہیں بڑھتی۔
البتہ ماہرین نے تنبیہ کی ہے کہ آلو بخارے کا زیادہ استعمال معدے کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے اور اس سے ہیضے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آلو بخارے
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔