اسرائیل کسی بھی وقت ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرسکتا ہے، امریکی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
امریکی محکمہ خارجہ نے بحرین اور کویت سے بھی غیر ضروری عملے اور ان کے اہلِ خانہ کے انخلا کی اجازت دی ہے، جس سے انہیں ملک چھوڑنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے مشرق وسطیٰ کے مختلف مقامات سے فوجی اہلکاروں کے اہلِ خانہ کی رضاکارانہ روانگی کی منظوری دے دی ہے، ایک اور اہلکار نے کہا کہ یہ فیصلہ زیادہ تر ان خاندانوں کے لیے اہم ہے جو بحرین میں مقیم ہیں، کیونکہ وہاں ان کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی میڈیا نے خبر دی ہے کہ اسرائیل کسی بھی وقت ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کرسکتا ہے۔ امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں اسرائیل کے ایران پر ممکنہ حملے کے پیش نظر ہائی الرٹ ہے اور اسی تناظر میں امریکی محکمہ خارجہ نے مشرق وسطیٰ سے اپنے سفارتی مشنز کے عملے میں کمی کرنا شروع کردی ہے۔ بحرین، کویت کے بعد عراق سے بھی کچھ عملے کے انخلا کی اجازت دے دی گئی ہے، جب کہ پینٹاگون نے مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں سے فوجی اہلکاروں کے اہل خانہ کے انخلا کی منظوری دے دی ہے۔ سیکیورٹی کی اس بڑھتی ہوئی صورتحال کا پس منظر یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ ایسے کسی معاہدے کے امکانات کو کم ہوتا دیکھ رہے ہیں، جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیاں عائد کی جاتیں اور مشرق وسطیٰ میں ممکنہ تباہ کن فوجی تصادم کو روکا جا سکتا۔
ٹرمپ نے ’نیویارک پوسٹ‘ کو بتایا تھا کہ ’میں اب اس معاہدے کے بارے میں اتنا پُرامید نہیں ہوں، جتنا کچھ مہینے پہلے تھا، ان کے ساتھ کچھ ہوا ہے، لیکن میں معاہدے کے ہونے کے بارے میں بہت کم پُرامید ہوں‘۔ حالیہ مہینوں میں امریکی انٹیلی جنس حکام کو اس بات پر شدید تشویش ہے کہ اسرائیل ممکنہ طور پر ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکا کی منظوری کے بغیر حملہ کر سکتا ہے، ایسا اقدام نہ صرف ٹرمپ انتظامیہ کی نازک جوہری سفارت کاری کو سبوتاژ کر دے گا بلکہ ایران کی طرف سے مشرق وسطیٰ میں امریکی اثاثوں پر جوابی کارروائی کو بھی جنم دے گا۔ تہران طویل عرصے سے یہ کہتا آیا ہے کہ اسرائیل کے سب سے بڑے فوجی اور سیاسی حامی کے طور پر امریکا کو ایران پر کسی بھی اسرائیلی حملے کی صورت میں نتائج بھگتنا ہوں گے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے حال ہی میں ان تمام سفارت خانوں کو (جو ایرانی حملے کی زد میں آسکتے ہیں، جن میں مشرق وسطیٰ، مشرقی یورپ اور شمالی افریقہ کے مشن شامل ہیں) ہدایت دی ہے کہ وہ ایمرجنسی ایکشن کمیٹیاں قائم کریں، اور واشنگٹن کو حفاظتی اقدامات سے متعلق رپورٹیں بھیجیں۔ اسی عمل کے نتیجے میں بدھ کے روز وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عراق سے غیر ضروری عملے کے انخلا کی اجازت دی تھی۔ محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہم ہر وقت اپنی سفارت خانوں کی افرادی قوت کے حوالے سے صورتحال کا جائزہ لیتے رہتے ہیں، ہماری تازہ ترین تجزیے کی بنیاد پر ہم نے عراق میں اپنے مشن کا دائرہ محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب ’ٹائمز آف اسرائیل‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے بعد امریکا، مشرق وسطیٰ میں اپنے آپریشنز کے لیے غیر ضروری عملے اور فوجی اڈوں سے اہلکاروں کو واپس بلا رہا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے اہلکار نے ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کو بتایا کہ صدر ٹرمپ امریکیوں کو گھر اور بیرون ملک دونوں جگہ محفوظ رکھنے کے لیے پرعزم ہیں، اسی عزم کے تحت ہم مسلسل اپنے سفارت خانوں میں مناسب عملے کی تعیناتی کا جائزہ لیتے رہتے ہیں، تازہ ترین تجزیے کی بنیاد پر ہم نے عراق میں اپنے مشن کی موجودگی کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رپورٹرز سے گفتگو میں تصدیق کی کہ کچھ امریکی اہلکاروں کو مشرق وسطیٰ سے نکالا جا رہا ہے، کیونکہ یہ ایک خطرناک جگہ ہو سکتی ہے۔
واشنگٹن میں کینیڈی سینٹر میں ’Les Miserables‘ دیکھنے سے پہلے انہوں نے کہا کہ ’دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، ہم نے اطلاع دے دی ہے، ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں‘۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بحرین اور کویت سے بھی غیر ضروری عملے اور ان کے اہلِ خانہ کے انخلا کی اجازت دی ہے، جس سے انہیں ملک چھوڑنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے مشرق وسطیٰ کے مختلف مقامات سے فوجی اہلکاروں کے اہلِ خانہ کی رضاکارانہ روانگی کی منظوری دے دی ہے، ایک اور اہلکار نے کہا کہ یہ فیصلہ زیادہ تر ان خاندانوں کے لیے اہم ہے جو بحرین میں مقیم ہیں، کیونکہ وہاں ان کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ کے خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی تھی جب امریکا اور ایران کے درمیان اس کے تیزی سے ہونے والے جوہری پروگرام پر مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے۔ 2 امریکی اہلکاروں نے بتایا کہ کشیدگی کے پیش نظر امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل کوریلا (جو مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی نگرانی کرتے ہیں) نے جمعرات کو امریکی قانون سازوں کے سامنے اپنی پیشی ملتوی کر دی۔ جنرل مائیکل کوریلا کو سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیش ہونا تھا، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ یہ مذاکرات ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے میں امریکا کی طرف سے عائد کی گئی سخت اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے بدلے میں ہو رہے ہیں، ایران اصرار کرتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے۔
مذاکرات کے چھٹے دور کا عارضی طور پر اس ہفتے کے آخر میں عمان میں طے تھا، تاہم اس حوالے سے واقف امریکی اہلکاروں نے بدھ کو کہا کہ مذاکرات کے انعقاد کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک امریکی اہلکار نے ’رائٹرز‘ کو بعد میں بتایا کہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اتوار کو عمان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے، اور حالیہ امریکی جوہری معاہدے کی تجویز پر ایران کے جواب پر بات کریں گے۔ صدر ٹرمپ اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ ایران کے خلاف فوجی طاقت استعمال کر سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی محکمہ خارجہ نے کے انخلا کی اجازت غیر ضروری عملے جوہری پروگرام امریکی اہلکار نے بتایا کہ میں امریکی کی منظوری اہلکار نے کی جوہری ایران کی جوہری پر دے دی ہے ہے کہ اس کے اہل کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد کو دھچکا پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو بھی فروخت کا دباؤ برقرار رہا۔
آج کاروبار کے پہلے نصف حصے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی کا شکار ہوگیا۔
دوپہر 12 بج کر 5 منٹ پرانڈیکس 170,475.30 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 1,264.14 پوائنٹس یعنی 0.74 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی کشیدگی سے سرمایہ کار محتاط، پاکستان اسٹاک مارکیٹ مندی سے دوچار
مارکیٹ میں فروخت کا رجحان آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں میں نمایاں رہا۔
حب پاور، اٹک ریفائنری لمیٹڈ، ماری انرجیز، او جی ڈی سی ایل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور نیشنل بینک جیسے زیادہ وزن رکھنے والے شیئرز مندی کے ساتھ کاروبار کرتے رہے۔
Market is down at midday ????
⏳ KSE 100 is negative by -1253.65 points (-0.73%) at midday trading. Index is at 170,485.8 and volume so far is 113.98 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/DtJJR8AXhS
— Investify Pakistan (@investifypk) July 24, 2026
جمعرات کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج شدید دباؤ کا شکار رہی تھی، جب کے ایس ای 100 انڈیکس 2,690.48 پوائنٹس یعنی 1.54 فیصد کمی کے بعد 171,739.45 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی نے سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھا دیے ہیں، جس کے باعث مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر فروخت دیکھنے میں آئی۔
عالمی منڈیوں میں بھی مندیعالمی سطح پر بھی ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں جمعہ کو نمایاں کمی دیکھی گئی، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 100.85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
گزشتہ روز اس میں تقریباً 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا اور قیمت مختصر طور پر 102 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔
مزید پڑھیں: عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟
تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایران سے منسلک حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے باعث سامنے آیا، جس سے عالمی تیل کی رسد متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے 60 تجارتی شراکت دار ممالک کی درآمدات پر مزید ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے نے بھی مہنگائی کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
مالیاتی منڈیوں میں یہ توقع بھی زور پکڑ رہی ہے کہ عالمی مرکزی بینک سخت مانیٹری پالیسی اختیار کر سکتے ہیں۔
سرمایہ کاروں کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ ہفتے ہی شرح سود میں اضافے کا امکان ایک تہائی تک پہنچ چکا ہے، جبکہ ستمبر میں شرح سود بڑھانے کا امکان تقریباً یقینی سمجھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: لائیو اسٹاک اور زراعت پر توجہ دے کر ایک سال میں معیشت بہتر کی جا سکتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف
ادھر یورپی مرکزی بینک نے اگرچہ اپنی حالیہ میٹنگ میں شرح سود برقرار رکھی، تاہم مالیاتی منڈیوں میں ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات تقریباً 70 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔
ایشیائی منڈیوں میں ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس میں ایک فیصد، جاپان کے نکی انڈیکس میں 2.9 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 3.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آبنائے ہرمز آئل ٹینکر اسٹاک ایکسچینج انڈیکس بحیرہ احمر پاکستان حبیب بینک حوثی سیمنٹ مانیٹری پالیسی میزان بینک نیشنل بینک