امریکا: اسٹوڈنٹس ویزا پر عائد پابندی اٹھا لی گئی
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
امریکا میں غیر ملکی طالبِ علموں کے لیے اسٹوڈنٹس ویزا پر عائد پابندی اٹھا لی گئی۔ تاہم اب طلبہ کو اپنے سوشل میڈیا اکاونٹس تک لازمی رسائی دینا ہوگی۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ جاری نوٹس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسٹوڈنٹ ویزا کے لیے معطل شدہ عمل کو دوبارہ شروع کیا جارہا ہے لیکن اب تمام درخواست دہندگان کو حکومتی نظرثانی کے لیے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک رسائی دینا ہوگی۔
محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ قونصلر افسران ان تمام پوسٹوں اور پیغامات کا جائزہ لیں گے جنہیں امریکا، اس کی حکومت، ثقافت، اداروں یا بانی اصولوں کے خلاف سمجھا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مئی میں جاری ہونے والے اسٹوڈنٹ ویزا پروسیسنگ کی معطلی کے احکامات کو منسوخ کر دیا ہے لیکن نئے درخواست دہندگان کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو ’پبلک‘ کرنا ہوگا اور جو اس سے انکار کرئے گا ان کی نظرثانی کی درخواست مسترد کی جا سکتی ہے۔
حکام نے بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ ماہ امریکا میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند غیر ملکی طلبہ کے نئے ویزا انٹرویوز کے شیڈولنگ کو عارضی طور پر روک دیا تھا جبکہ سوشل میڈیا پر ان کی سرگرمیوں کی اسکریننگ کو بڑھانے کی تیاری کر رہے تھے۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔