پنجاب: سی سی ڈی کا ایک روز میں 4 مقابلوں میں 6 ملزمان کی ہلاکت کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور میں سی سی ڈی (کاؤنٹر کرائم ڈیپارٹمنٹ) نے ایک ہی دن میں مختلف شہروں میں چار مبینہ پولیس مقابلوں کے دوران چھ ملزمان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ترجمان سی سی ڈی کے مطابق یہ مقابلے لاہور، قصور، گوجرہ اور شیخوپورہ میں پیش آئے۔
قصور بائی پاس پر پولیس نے ڈاکوؤں کی موجودگی کی اطلاع پر چھاپہ مارا۔ اس دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں دو ڈاکو مارے گئے جبکہ ان کا ایک ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والے دونوں ڈاکو 50 سے زائد سنگین جرائم میں پولیس کو مطلوب تھے۔
گوجرہ میں بھی پولیس کو اشتہاری ملزمان کی موجودگی کی اطلاع ملی۔ چھاپے کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں دو ملزمان زخمی حالت میں گرفتار کیے گئے۔ ان پر قتل، ڈکیتی، راہزنی اور بھتہ خوری سمیت کئی مقدمات درج تھے۔
لاہور کے علاقے شاہدرہ ٹاؤن میں ناکے پر چیکنگ کے دوران تین مشکوک افراد کو روکا گیا تو انہوں نے پولیس پر فائرنگ شروع کردی۔ جوابی کارروائی کے دوران اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا ایک ملزم بعد ازاں اسپتال میں دم توڑ گیا۔ ترجمان کے مطابق یہ ملزم ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں میں ریکارڈ یافتہ تھا۔
شیخوپورہ میں سرگودھا روڈ پر ڈاکوؤں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں ایک ڈاکو مارا گیا جبکہ اس کے تین ساتھی فرار ہوگئے۔ ہلاک ڈاکو کی شناخت نہیں ہو سکی، تاہم باقی ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے دوران
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔