پاکستان نیول اکیڈمی میں کمیشننگ پریڈ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر مہمان خصوصی
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
پاکستان نیول اکیڈمی ”پی این ایس رہبر“ میں 123ویں مڈشپ مین اور 31ویں شارٹ سروس کمیشن کورس کی شاندار کمیشننگ پریڈ کا انعقاد کیا گیا، جس کے مہمان خصوصی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تھے۔
پریڈ کے آغاز پر نیوی کے چاق و چوبند دستے نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو پرتپاک سلامی پیش کی۔ فیلڈ مارشل نے پریڈ کا معائنہ بھی کیا اور حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کامیاب کیڈٹس کو سراہا۔
اس موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے کیڈٹس میں انعامات تقسیم کیے۔ کیڈٹ عبدالرحمان نے بہترین کارکردگی پر ”سورڈ آف آنر“ کا اعلیٰ اعزاز حاصل کیا۔
تقریب میں اعلیٰ عسکری و سول حکام، کیڈٹس کے والدین اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔ پریڈ کے دوران کیڈٹس کی پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور جذبۂ حب الوطنی کا مظاہرہ قابل دید تھا۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔