آنکھوں میں مرچیں، گلے پر پاؤں۔۔۔! افیئر کیلئے بیوی کے ہاتھوں شوہر کے قتل کی ایک اور لرزہ خیز کہانی
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
جب انسان کی خواہشات حیوانیت میں بدل جائیں، تو رشتے، احساسات اور انسانیت سب کچھ پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ ایک ایسا ہی لرزہ خیز واقعہ جنوبی ہندوستان کرناٹک کے ضلع ٹمکورو کے ایک گاؤں میں پیش آیا، جہاں ایک عورت نے مبینہ طور پر اپنے عاشق کے ساتھ مل کر اپنے شوہر کو نہایت بےدردی سے قتل کر دیا۔
واردات کے مطابق، 50 سالہ شنکرا مورتی تنہا ایک فارم ہاؤس میں زندگی گزار رہا تھا، جبکہ اُس کی بیوی سُمَنگلا قریبی علاقے میں ملازمت کرتی تھی۔ دونوں کے درمیان کشیدگی کی خبریں پہلے ہی سننے میں آتی تھیں۔ خاتون پر الزام ہے کہ اس نے اپنے شوہر کو راستے سے ہٹانے کی سازش کی تاکہ اپنے ناجائز تعلقات کی راہ ہموار کی جا سکے۔
قتل کی تفصیلات نہایت ہولناک ہیں، پہلے شوہر کی آنکھوں میں مرچیں ڈالیں، پھر ڈنڈے سے مارا اور بعد ازاں گردن پر پیر رکھ کر اُسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ بعدازاں، لاش کو بوری میں بند کرکے تقریباً 30 کلومیٹر دور ایک دور دراز علاقے میں ایک کنویں میں پھینک دیا گیا تاکہ جرم چھپایا جا سکے۔
ابتدائی طور پر یہ ایک گمشدگی کا کیس سمجھا جا رہا تھا لیکن جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد اور تفتیش کے دوران حاصل کی گئی معلومات سے جرم کی تہہ تک پہنچنے میں مدد ملی۔ فارم ہاؤس سے مرچ پاؤڈر اور بستر پر جدوجہد کے نشانات ملنے پر پولیس کو شبہ ہوا۔ خاتون کی موبائل کالز کا ریکارڈ چیک کرنے اور تفتیش کے دوران اُسے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا، جس پر بالآخر اُس نے جرم کا اعتراف کر لیا۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔