سندھ کے ضلع سکھر میں 18 ستمبر 2025 کو ایک اونٹنی پر وحشیانہ حملہ ہوا جس میں اس کا پچھلا دایاں پیر کچل دیا گیا۔ مالک نے 3 مشتبہ افراد کے خلاف شکایت درج کرائی، جن میں رسول بخش شیخ، قربان بروہی اور ملک عمر شامل تھے۔ پولیس نے 2 ملزمان بروہی اور شیخ کو گرفتار کر لیا، جبکہ تیسرا فرار ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سکھر میں بہیمانہ تشدد کا شکار اونٹنی علاج کے لیے کراچی منتقل

طبی امداد اور سرجری

اونٹنی، جسے ‘چاندنی’ کا نام دیا گیا، کو ابتدائی طبی امداد کے بعد اس کے جبڑے اور زخمی پاؤں کی سرجری کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔

سندھ کے لائیواسٹاک سیکریٹری کاظم جتوی کے مطابق 3 گھنٹے جاری رہنے والی سرجری کامیابی سے مکمل ہوئی اور اونٹنی اب خطرے سے باہر ہے۔

ان کے مطابق چاندنی اب ہوش میں ہے اور 2 دن میں کھانا کھا سکے گی، جبکہ مکمل صحتیابی میں 3 سے 5 ہفتے لگیں گے ۔

پروس تھیٹک حل کی کوششیں

اونٹنی کا زخمی پاؤں سیپٹک ہونے سے پہلے کاٹنا ضروری تھا، تاکہ مزید انفیکشن نہ پھیلے۔ Comprehensive Disaster Response Services (CDRS) کے بینجی پروجیکٹ کے ڈائریکٹر سارہ جہانگیر نے کہا کہ وہ امریکی کمپنی Bionic Pets USA کو ایک مصنوعی پاؤں کے لیے X-rays اور تصاویر بھیج رہی ہیں۔

سندھ حکومت کی ہدایت

چیف منسٹر مراد علی شاہ نے ہدایت دی ہے کہ چاندنی کو بہترین ممکنہ علاج فراہم کیا جائے اور اس کے زخم بھرنے کے بعد ماہرین کی مدد سے مصنوعی پاؤں نصب کیا جائے۔

یاد رہے کہ ایسا ہی ایک واقعہ تقریباً ایک سال پہلے سندھ کے ضلع سانگھڑ میں بھی پیش آیا تھا، جب ایک جاگیردار نے اونٹنی کا پاؤں کاٹ دیا تھا، کیونکہ وہ اس کے کھیت میں گئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اونٹنی اونٹنی چاندنی اونٹنی حملہ سارہ جہانگیر کاظم جتوئی مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اونٹنی اونٹنی چاندنی اونٹنی حملہ سارہ جہانگیر کاظم جتوئی مراد علی شاہ وزیراعلی سندھ کے لیے

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اداکارہ میرب علی کو اچانک سرجری کیوں کروانا پڑی؟ اصل وجہ سامنے آگئی
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری