اسلام آباد(نیوز ڈیسک)دنیا کا سب سے بڑا یوتھ فٹبال ایونٹ ناروے کپ 2025 رواں سال 26 جولائی سے 2 اگست تک ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں 30 سے زائد ممالک کی 2,000 سے زیادہ ٹیمیں شرکت کریں گی۔ پاکستان کی نمائندگی اس بار بھی مسلم ہینڈز ایف سی کے نام سے کھیلنے والی اسٹریٹ چائلڈ فٹبال ٹیم کرے گی، جو عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا چکی ہے۔

یہ ٹیم پاکستان کے محروم اور اسٹریٹ بچوں پر مشتمل ہے، جو مسلم ہینڈز کے معروف ‘میدان’ پروگرام کے تحت فٹبال کی باقاعدہ تربیت حاصل کرتے ہیں۔ اس پروگرام کا مقصد نہ صرف کھیل کے ذریعے بچوں کی شخصیت سازی اور تعلیم کو فروغ دینا ہے بلکہ ان کے لیے ایک روشن اور محفوظ مستقبل کی بنیاد رکھنا بھی ہے۔

پاکستانی ٹیم نے گزشتہ برسوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جن میں 2023 میں چاندی کا تمغہ اور 2024 میں چوتھی پوزیشن حاصل کرنا شامل ہے۔ اس وقت ٹیم اسلام آباد اسپورٹس کمپلیکس میں بھرپور تیاریوں میں مصروف ہے تاکہ ناروے کپ میں ایک بار پھر پاکستان کا پرچم سربلند کر سکے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ ٹیم وزیراعظم یوتھ پروگرام اور مسلم ہینڈز کی مشترکہ کاوش کا نتیجہ ہے، جس کے تحت ملک بھر سے نوجوان ٹیلنٹ کو تلاش کرنے کے لیے مختلف شہروں میں ٹریننگ کیمپس کا انعقاد کیا گیا۔ ان کیمپس کے ذریعے بہترین کھلاڑیوں کا انتخاب کر کے فائنل اسکواڈ تشکیل دیا گیا، جس میں چاروں صوبوں کی نمائندگی کو یقینی بنایا گیا ہے۔

مسلم ہینڈز کا ‘میدان’ پروگرام بچوں کو نہ صرف بین الاقوامی سطح پر آگے بڑھنے کا موقع فراہم کر رہا ہے بلکہ پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ میں بہتری، دنیا کے 100 بہترین پاسپورٹس میں شامل

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: مسلم ہینڈز

پڑھیں:

رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی

رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔

اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار