ایشیا کپ 2025 کب اور کہاں ہوگا؟ ممکنہ تاریخ اور مقام سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
ایشیا کپ 2025 کے انعقاد کی تیاریاں جاری ہیں اور بھارتی میڈیا کے مطابق یہ ٹورنامنٹ 10 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایشیا کپ کا باضابطہ شیڈول جولائی کے پہلے ہفتے میں جاری کیا جائے گا اور ٹورنامنٹ کی میزبانی بھارت کرے گا۔
ایشیا کپ میں پاکستان، بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش، افغانستان اور متحدہ عرب امارات کی ٹیموں کی شرکت متوقع ہے۔
میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایشیا کپ کے میچز متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں کرانے کے امکانات زیادہ ہیں تاکہ نیوٹرل مقام پر ٹیموں کو سہولت دی جا سکے۔
علاوہ ازیں بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایونٹ ہائبرڈ ماڈل کے تحت بھی کھیلا جا سکتا ہے جس کے تحت چند میچز ایک اور چند میچز دوسرے ملک میں ہوسکتے ہیں۔
یاد رہے کہ رواں سال کے آغاز میں بھارت نے سکیورٹی کا بہانہ بناکر چیمپئنز ٹرافی کیلئے پاکستان آنے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد ہائبرڈ ماڈل پر اتفاق ہوا تھا اور بھارت کے میچز یو اے ای میں کرائے گئے تھے۔ پاکستان نے بھی آئندہ ٹورنامنٹس کیلئے اپنی ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایشیا کپ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔