Jasarat News:
2026-07-24@06:05:48 GMT

ایران اور اسرائیل جنگ اور بھارت

اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایران اور اسرائیل کے بیچ لڑائی میں بھارت کہاں کھڑا ہے اور یہ جنگ بڑھی تو یہ کہاں کھڑا ہوگا۔ اپنے پچھلے ایک مضمون میں ہم نے اس امر کا جائزہ لیا تھا کہ ایران اور اسرائیل کی جنگ میں پاکستان کہاں کھڑا ہے اور جنگ بڑھی تو پاکستان کہاں کھڑا ہوگا۔ جہاں تک اس سوال کا کہ بھارت کہاں کھڑا ہے اور مستقبل میں جنگ کے شعلے تیز ہونے کی شکل میں کہاں ہوگا اس کا ایک ہی سیدھا سادا سا جواب ہے کہ آج بھی اور کل بھی بھارت ایک ہی پوزیشن پر کھڑا ہے اور کھڑا رہے گا وہ یہ کہ بھارت منافقت کی بلندیوں پر کھڑا ہے نیتن یاہو نے ایران پر حملہ کرنے کے بعد سب سے پہلے جس کو فون کیا وہ نریندر مودی تھے انہوں نے مودی جی کو اپنی کامیاب کارروائی کی روداد سنائی ہوگی ہو سکتا ہے کہ یہ بھی کہا ہو کہ ہم نے پاکستان کے ہاتھوں آپ کو جو شکست ہوئی ہے اس کا بدلہ لے لیا۔ مودی جی نے شکریہ ادا کرنے یا خوش ہونے کے بجائے یہی کہا ہوگا کہ ابھی میرے سینے میں ٹھنڈ نہیں پڑی جب تک آپ ایران کو تہس نہس نہ کردیں۔ ہم اس ملک سے اربوں ڈالر کی سالانہ تجارت کرتے ہیں۔ پاکستان اس سے تیل نہیں خرید سکتا تھا ہم اس سے تیل خریدتے رہے ہیں دنیا بھر کی پابندیوں کے باوجود ہم اس کی معیشت کا سہارا بنے رہے لیکن اس کی بے وفائی دیکھو ہماری پاکستان سے جنگ ہوئی تو پاکستان کے ساتھ جا کر کھڑا ہوگیا اور پاکستان کے وزیر اعظم کو خصوصی طور پر اپنے یہاں بلایا ان کا بھرپور استقبال کیا خیر یہ تو ہم نے اپنی طرف سے چند حقائق لکھے مودی جی نے چاہے کچھ نہ کہا ہو لیکن سوچا تو ضرور ہوگا۔ جب اسرائیل نے حملہ کیا تو پاکستان نے جس پرجوش انداز میں ایران کی ڈپلومیٹک حمایت کی ہے اس کی بنا پر خود ایرانی اسمبلی میں تشکر پاکستان کے نعرے لگے ہیں۔
امریکا کے بعد بھارت وہ ملک ہے جو اس حملے میں اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے بلکہ بھارت میں تو اسرائیل کے حق میں انتہاپسند ہندوئوں نے جلوس بھی نکالا ہے۔ اسرائیل کے پہلے حملے میں جو اہم شخصیات جس میں فوجی کمانڈر، ایرانی سائنسدان اور دیگر ایجنسیوں کے لوگ شہید کیے گئے وہ انتہائی افسوسناک تو ہے ہی تشویشناک بھی بہت ہے کہ ایرانی حکومت کے سائے تلے ایرانی سرزمین پر منی اسرائیلی ریاست قائم کی گئی جہاں ڈرونز بنانے کی فیکٹری لگی موساد کے ایجنٹوں نے وہیں ڈرون چلانے والے بھی تیار کیے اور اہم شخصیات کے بارے میں جدید معلومات حاصل کی کہ وہ جہاں بھی تھے وہیں ان کو مار دیا گیا۔ پتا نہیں کیوں ایرانی حکومت موساد کی اتنی بڑی اتنی حساس خفیہ سرگرمیوں کو مانیٹر نہ کرسکی اب جو تفصیلات سامنے آئیں ہیں وہ یہ کہ سیکڑوں ہندوستانی را کے ایجنٹس بھی گرفتار ہوئے ہیں جو موساد کے ساتھ مل کر یہ سارے کام میں ان کی مدد کررہے تھے کیا ایرانی حکومت کو پتا نہ ہوگا کہ جو بھارتی شہری کاروبار کے حوالے سے، سیر و سیاحت کے حوالے سے یا اور کسی واسطے سے ایران آئے ہوئے ہیں ان ہی میں سے بہت بڑی تعداد را کے ایجنٹوں کی رہی ہوگی اور یہ وہ لوگ تھے جو بلوچستان میں دہشت گردی کرتے تھے کلبھوشن یادو اس کا پورا نٹ ورک چلاتا تھا۔ ایک برادرانہ شکوہ تو اپنی ایرانی حکومت سے تو بنتا ہے نا کہ انہوں نے ان را کے ایجنٹوں کو کھلی چھوٹ دی ہوئی تھی کہ وہ پاکستان میں جو تخریبی کارروائیاں کرنا چاہیں کرتے رہیں۔ بھارت کا اصل مقصد تو پاکستان کو اندر سے کمزور کرنا ہے اور یہ کام اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کو سہولت کار نہ مل جائیں۔ چلیے آپ انڈیا سے اربوں ڈالر کے کاروبار کریں ہمیں کوئی اعتراض نہیں، آپ انہیں تیل فروخت کریں کوئی اعتراض نہیں اس کے بعد آپ نے گوادر کی بندرگاہ کے مقابلے میں چابہار کی بندرگاہ کی تعمیر میں بھارت کو وسیع سرمایہ کاری کا موقع دیا کوئی بات نہیں۔ پھر آپ دیکھیں کہ ان ہی را کے ایجنٹوں نے موساد کے ساتھ مل کر آپ کی جڑیںکاٹنی شروع کردیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام رکن ممالک نے ایران اسرائیل جنگ میں ایران کی حمایت کا اعلان کیا ایک واحد بھارت تھا جس نے اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا اب تو ایرانی حکومت کو یہ بات سمجھ میں آگئی ہوگی کہ ہندوستان اس کے ساتھ منافقت سے کام لیتا چلا آرہا ہے۔ اسرائیل، انڈیا اور امریکا یہ تینوں ملک ایران کی مخالفت میں ایک ہیں۔ قرآن میں بھی یہ بات مسلمانوں کو سمجھائی گئی ہے کہ یہ یہودی اور عیسائی تمہاری مخالفت میں ایک ہیں ہم جب اپنے پیارے نبی کریمؐ کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہی بات سامنے آتی ہے آپ کو پوری زندگی یہودیوں، عیسائیوں اور مشرکوں کی مخالفت اور مخاصمت کا سامنا کرنا پڑا۔ آج بھی مسلمانوں کے یہی تینوں دشمن ہیں اسرائیل یہودیوں کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ امریکا اور دیگر یورپی ممالک عیسائیوں کی اور بھارت مشرکوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ جہاں یہ تینوں گروہ مسلمانوں کی مخالفت میں ایک ہوگئے ہیں وہیں ہم یہ قدرت کا کرشمہ بھی دیکھ رہے ہیں سعودی عرب بہت پرجوش انداز میں ایران کی حمایت کررہا ہے ورنہ ایک زمانے میں ایران اور سعودی عرب میں تنائو کی کیفیت رہتی تھی۔ اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب نے جن چار ممالک کا موجودہ ایران اسرائیل تنازع میں ساتھ دینے پر شکریہ ادا کیا ان میں چین روس اور پاکستان کے ساتھ سعودی عرب بھی شامل ہے۔
اسرائیل کا ایک شہر حیفہ ہے جہاں پر ایران نے میزائل مارے ہیں اور اس سے حیفہ کی بندرگاہ کو شدید نقصان پہنچا ہے کہتے ہیں یہ نقصان براہ راست بھارت کو پہنچا ہے کہ اس بندرگاہ کے کاروبار میں 70 فی صد شیئر بھارت کے وزیر اعظم مودی کے دوست اڈانی کے ہیں۔ اسرائیل اور بھارت کے گٹھ جوڑ کی ایک نشانی یہ ہے کہ پاکستان ہندوستان کی چار روزہ جنگ کے دوران جو اسرائیلی ڈرون پاکستان کی طرف آرہے تھے اس کو آپریٹ کرنے والے آپریٹر بھی اسرائیل سے آئے تھے ایک تجزیہ کار یہ بھی بتارہے تھے کہ پاکستان کی طرف سے اس ائر بیس پر جہاں سے یہ ڈرون چلائے جارہے تھے میزائل سے حملہ کیا گیا تو اس میں کچھ اسرائیلی بھی زخمی ہوئے اور مزید یہ بھی معلوم ہوا کہ مقبوضہ کشمیر کے ایک صحافی نے اس واقع کی تحقیقات شروع کی تو اس صحافی ہی کسی نے اغوا کرلیا جس کا تاحال کچھ پتانہیں کہ وہ کہاں ہے۔ ان تمام واقعات سے تو یہی پتا چلتا ہے کہ ایران اسرائیل یہ کی یہ جنگ بڑھی تو بھارت کی ہمدردیاں اسرائیل کے ساتھ ہوں گی۔
یہ مضمون ہم نے 19جون کو لکھا تھا اور 20 جون کو اخبار میں بھیجنا تھا کہ اچانک کمپیوٹر خراب ہوگیا ایک ہفتہ اس کی درستی میں لگ گیا اس درمیان میں ایران اسرائیل جنگ میں بڑی ڈرامائی تبدیلیاں ہوئیں ہمارے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے جو تاریخی ملاقات ہوئی وہ خود ایک موضوع ہے لیکن بعد میں ٹرمپ کے بیان سے کچھ ایسا لگا کہ ہمارے چیف نے کچھ مفید مشورے دیے ہوں گے ٹرمپ نے کہا کہ عاصم منیر ایران کو اچھی طرح سمجھتے ہیں ہم دو ہفتے کا وقت دے رہے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ یہی بات کہی ہوگی کہ آپ (امریکا) اس جنگ میں نہ کودیں ورنہ یہ جنگ پھیل جائے گی اسی لیے دو ہفتے کا وقت دراصل اسرائیل کو دیا گیا تم جتنا ایران کا بھرکس نکال سکتے ہو نکال دو پھر وہ (ایران) سرنڈر کرنے یعنی ہتھیار ڈالنے پر تیار ہو جائے گا لیکن ساری تدبیریں الٹی ہوگئیں ایران نے تو اسرائیل کا بھرکس نکال دیا پھر نیتن یاہو اور امریکا میں صہیونی لابی کا ٹرمپ پر دبائو بڑھ گیا اور اسرائیل کو مکمل شکست سے بچانے یا اس کی فیس سیونگ کے لیے امریکا نے ایران پر حملہ کردیا جس کی خوشی اسرائیل سے زیادہ انڈین میڈیا اور نریندر مودی کو ہوئی۔ امریکا کا ایران پر حملے کے بعد اس حملے کا متنازع ہوجانا خود ایک دلچسپ موضوع ہے جس پر الگ سے بات ہوگی۔ لیکن ہماری یہ بات تو سچ ثابت ہوگئی کہ بھارت آخر تک ایران کے مقابلے میں اسرائیل اور امریکا کے ساتھ کھڑا رہا اور ابھی جو چین میں شنگھائی کانفرنس اسے منہ کی کھانی پڑی کہ بھارتی وزیر دفاع اعلامیہ پر دستخط کیے بغیر اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے کہ اس میں پہل گام واقع پر پاکستان کی مذمت کا جملہ ڈلونا چاہتے تھے بقیہ 9 ارکان اس پر راضی نہیں ہوئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایران اسرائیل ایرانی حکومت اور اسرائیل کھڑا ہے اور پاکستان کے اسرائیل کے تو پاکستان کے ایجنٹوں ایران اور میں ایران کہاں کھڑا کہ بھارت ایران کی رہے تھے ایران ا کے ساتھ ہے کہ ا کے بعد اور اس ایک ہی

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم