اسٹائلش اداکار راحت کاظمی کی 81 ویں سالگرہ پر بیٹے کا جذباتی پیغام
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
ماضی کے نامور اور منجھے ہوئے اداکار راحت کاظمی 81 برس کے ہوگئے اور اس خاص دن پر ان کے بیٹے نے ایک جذباتی پیغام اپنے والد کے نام لکھا ہے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔
راحت کاظمی کے بیٹے علی کاظمی بھی اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کئی ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھا چکے ہیں۔
چند دن قبل علی کاظمی نے بتایا تھا کہ وہ اپنے والد کی سالگرہ گھر پر منانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اب انھوں نے انسٹاگرام پر ایک خوبصورت تصویر شیئر کی ہے۔
اس تصویر میں علی کاظمی اپنے والد راحت کاظمی اور بہن ندا کاظمی کے ہمراہ مسکراتے نظر آ رہے ہیں۔
اس یادگار تصویر میں راحت کاظمی نہایت خوش اور پُرسکون دکھائی دے رہے ہیں تاہم وہ نہایت کمزور دکھائی دے رہے ہیں۔
علی کاظمی نے اپنے والد لیجنڈری اداکار راحت کاظمی کی 81 ویں سالگرہ کے موقع پر دل کو چھو لینے والا ایک پیغام دے کر خراجِ تحسین پیش کیا۔
علی کاظمی نے لکھا کہ میرے ابا کو 81 ویں سالگرہ مبارک، وہ ان چند انسانوں میں سے ہیں جو نہایت دانا اور باکمال ہیں۔ مجھے سب کچھ سیکھانے کے لیے ان کا شکر گزار ہوں۔
یاد رہے کہ راحت کاظمی نے "دھوپ کنارے"، "تنہائیاں"، "پری زاد" اور متعدد لازوال ڈراموں میں کام کیا اور شہرت کی بلندی کو چھوا۔
ان کی شہرت اور مقبولیت اب بھی برقرار رہیں جس کا اندازہ ان کے بیٹے کی پوسٹ پر دنیا بھر سے ان کے مداح کے کمنٹس سے بھی کیا جا سکتا ہے۔
راحت کاظمی پاکستان کا اثاثہ ہیں۔ جنھوں نے پی ٹی وی کے سنہرے دور میں ناقابل فراموش ڈراموں میں کام کیا۔ وہ اس وقت کینیڈا میں مقیم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: راحت کاظمی اپنے والد علی کاظمی
پڑھیں:
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں پروگرام: دین و دنیا
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
مہمان: عالمہ رافعہ منیر
میزبان : مولانا سید تقی زیدی
پیش کار و مدیر: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو:
کربلا میں عشق کے دو بلند ترین مینار ہیں: ایک سرورِ شہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا جلوہ، اور دوسرا اس آفتابِ عصمت کی تابناکی، جس کا نام حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہے۔ یہیں پر خواتین کا کردار تاریخ کی سب سے درخشاں داستان بن کر ابھرتا ہے۔ بی بی زینبؑ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے بھائی کے لہو کا منظر دیکھا، بلکہ اپنی گفتار اور استقامت سے عاشورہ کی نہضت کو ابدی زندگی عطا کی، یزید کی باطل حکومت کو جوابِ شافی دیا اور اسے اخلاقی شکست کا مزہ چکھایا۔ کربلائی خواتین نے اپنے شوہروں، بھائیوں اور بچوں کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنے امام کی راہ میں سبقت کریں؛ چنانچہ چھوٹے سے چھوٹے طفلِ شیرخوار نے بھی لبِ تشنہ سے قربانی کا یہ پیغام جگا دیا کہ عشقِ حسینی میں کسی کو کسی کی پروا نہیں، بس جلوۂ حق ہے اور اس کی خاطر ہر چیز فدا۔
یہ انفرادی جہاد ہی نہیں، بلکہ خواتین کا اجتماعی کردار بھی معاشرے کی تشکیل میں ناقابلِ فراموش حیثیت رکھتا ہے۔ شہیدِ امت، رہبر معظم انقلاب نے بارہا اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ معاشرہ خواتین کے کردار کے بغیر اپنی پختگی اور تکمیل نہیں پا سکتا۔ لہٰذا خواتین کو اپنے ہر شعبۂ زندگی، خاص طور پر علم و تعلیم کے میدان میں کمال حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ بعض ذمہ داریاں ایسی ہیں جنہیں مرد انجام نہیں دے سکتے، مگر ایک باہوش، باصلاحیت اور تربیت یافتہ عورت انہیں بہترین انداز میں سرانجام دے سکتی ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو کربلا کی درسگاہ سے نکلتی ہے اور ہر دور کی خواتین کو اپنی داخلی قوت کو پہچاننے اور اپنے معاشرتی فرائض کو پورا کرنے کا پیغام دیتی ہے۔