وزارت توانائی نے بجلی کے200 کےبجائے 300 یونٹس تک پروٹیکٹڈ شرح میں لانے کی تجویز دے دی۔
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
وزارت توانائی نے بجلی صارفین کو خوشخبری سناتے ہوئے پروٹیکٹڈ یونٹس کی تعداد بڑھانے کی تجویز دے دی۔ذرائع وزارت توانائی کے مطابق ارکان اسمبلی نے201 یونٹس پر 5 ہزار روپے اضافی بل بھجوانے کا معاملہ اٹھا دیا ہے، ارکان اسمبلی نے وزیراعظم شہباز شریف کو صارفین کے ساتھ ہونے والی زیادتی سے آگاہ کیا۔ذرائع وزارت توانائی نے بتایا کہ201 کے بجائے301 یونٹس استعمال کرنے والوں پر اضافی بل بھیجنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ذرائع وزارت توانائی کے مطابق بجلی کے301 یونٹس کو نان پروٹیکٹڈ شرح ڈیکلیئر کرنے کی تجویز ہے۔ذرائع کے مطابق پروٹیکٹڈ اور نان پرٹیکٹڈ بجلی صارفین کے معاملے پر اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دئیے جانے کا امکان ہے، کمیٹی 201 کے بجائے بجلی کے 300 یونٹس کو نان پروٹیکٹڈ شرح میں لانے کی سفارش کر سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وزارت توانائی کی تجویز
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔