مسلح ملزمان نے اسسٹنٹ کمشنر زیارت اور بیٹے کو اغوا کرلیا، سرکاری گاڑی نذر آتش
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
بلوچستان کے ضلع زیارت میں تعینات اسسٹنٹ کمشنر افضل باقی اور ان کے بیٹے کو اغوا کرلیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے ضلع زیارت کے تفریحی مقام زرزری میں نامعلوم مسلح افراد نے اسسٹنٹ کمشنر زیارت محمد افضل باقی اور ان کے بیٹے کو بندوق کی نوک پر اغوا کر لیا۔
ڈپٹی کمشنر زیارت زکاء اللہ درانی کے مطابق یہ واقعہ اتوار کے روز اس وقت پیش آیا جب افضل باقی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ زرزری کے خوبصورت مقام پر تفریح کے لیے موجود تھے۔
رپورٹس کے مطابق مسلح افراد نے افضل باقی، ان کے بیٹے، گن مین اور ڈرائیور کو سرکاری گاڑی سمیت اغوا کیا تاہم، کچھ فاصلے پر جا کر اغوا کاروں نے افضل باقی کے اہل خانہ کو رہا کر دیا اور گن مین اور ڈرائیور کو بھی چھوڑ دیا گیا۔
اس کے بعد ملزمان نے اسسٹنٹ کمشنر کی سرکاری گاڑی کو نذرِ آتش کر دیا، اطلاعات کے مطابق اغوا کار افضل باقی اور ان کے بیٹے کو خلیفات ماؤنٹین کی طرف لے گئے۔
ڈپٹی کمشنر زکاء اللہ درانی نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز اور لیویز اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر اور ان کے بیٹے کی بحفاظت بازیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور تحقیقات کثیر الجہتی بنیادوں پر جاری ہیں۔
یہ واقعہ بلوچستان میں دو ماہ سے زائد عرصے میں اسسٹنٹ کمشنر کے اغوا کا دوسرا واقعہ ہے۔
اس سے قبل 4 جون 2025 کو تربت سے کوئٹہ جاتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر تمپ محمد حنیف نورزئی کو بھی اغوا کیا گیا تھا۔
یاد رہے اس واقعے نے زیارت جیسے سیاحتی مقام پر سیکیورٹی کی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں جو اپنی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔
مقامی افراد نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز علاقے میں ملزمان کی تلاش میں سرگرم ہیں اور جلد ہی افضل باقی اور ان کے بیٹے کو بازیاب کر لیا جائے گا، تاہم، اب تک کسی گروپ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افضل باقی اور ان کے بیٹے کو کے مطابق
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک