بلوچستان کے ضلع زیارت میں تعینات اسسٹنٹ کمشنر افضل باقی اور ان کے بیٹے کو اغوا کرلیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے ضلع زیارت کے تفریحی مقام زرزری میں نامعلوم مسلح افراد نے اسسٹنٹ کمشنر زیارت محمد افضل باقی اور ان کے بیٹے کو بندوق کی نوک پر اغوا کر لیا۔

ڈپٹی کمشنر زیارت زکاء اللہ درانی کے مطابق یہ واقعہ اتوار کے روز اس وقت پیش آیا جب افضل باقی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ زرزری کے خوبصورت مقام پر تفریح کے لیے موجود تھے۔

رپورٹس کے مطابق مسلح افراد نے افضل باقی، ان کے بیٹے، گن مین اور ڈرائیور کو سرکاری گاڑی سمیت اغوا کیا تاہم، کچھ فاصلے پر جا کر اغوا کاروں نے افضل باقی کے اہل خانہ کو رہا کر دیا اور گن مین اور ڈرائیور کو بھی چھوڑ دیا گیا۔

اس کے بعد ملزمان نے اسسٹنٹ کمشنر کی سرکاری گاڑی کو نذرِ آتش کر دیا، اطلاعات کے مطابق اغوا کار افضل باقی اور ان کے بیٹے کو خلیفات ماؤنٹین کی طرف لے گئے۔

ڈپٹی کمشنر زکاء اللہ درانی نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز اور لیویز اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر اور ان کے بیٹے کی بحفاظت بازیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور تحقیقات کثیر الجہتی بنیادوں پر جاری ہیں۔

یہ واقعہ بلوچستان میں دو ماہ سے زائد عرصے میں اسسٹنٹ کمشنر کے اغوا کا دوسرا واقعہ ہے۔

اس سے قبل 4 جون 2025 کو تربت سے کوئٹہ جاتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر تمپ محمد حنیف نورزئی کو بھی اغوا کیا گیا تھا۔

یاد رہے اس واقعے نے زیارت جیسے سیاحتی مقام پر سیکیورٹی کی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں جو اپنی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

مقامی افراد نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز علاقے میں ملزمان کی تلاش میں سرگرم ہیں اور جلد ہی افضل باقی اور ان کے بیٹے کو بازیاب کر لیا جائے گا، تاہم، اب تک کسی گروپ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: افضل باقی اور ان کے بیٹے کو کے مطابق

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی
  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • شانگلہ:چھت منہدم‘6بچے‘گاڑی کھائی میں جا گرنے پر 6مسافر گلگت میں جاںبحق
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا