پختونخوا؛ مزید بارشوں سے لینڈسلائیڈنگ کا خدشہ، سیاحوں کو سفر سے گریز کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
وزیراعظم کی ہدایت پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی ٹیمیں امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے پشاور پہنچ گئیں۔
ترجمان کے مطابق این ڈی ایم اے صوبائی حکومت اور پی ڈی ایم اے کو مکمل معاونت فراہم کر رہا ہے اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچایا جا رہا ہے۔ گزشتہ شام چیئرمین این ڈی ایم اے نے وزیراعظم کو موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ بھی دی تھی۔
این ڈی ایم اے نے واضح کیا ہے کہ تمام سول اور عسکری ادارے باہمی رابطے میں ہیں اور امدادی کارروائیوں کی ہمہ وقت نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ ہنگامی صورتحال سے موثر طور پر نمٹا جا سکے۔
محکمے نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں شمالی علاقہ جات میں مزید بارشوں کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس لیے سیاحوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ آئندہ 5 سے 6 روز تک شمالی علاقہ جات کا سفر نہ کریں اور شہری بارشوں اور سیلاب کے دوران حفاظتی اقدامات لازمی اپنائیں۔
این ڈی ایم اے کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں حالیہ بارشوں، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث 214 افراد جاں بحق اور 21 زخمی ہو چکے ہیں جب کہ 55 افراد تاحال لاپتا ہیں جن کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں پاک فوج، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، پی ڈی ایم اے اور مقامی رضاکار مشترکہ طور پر ریلیف اور ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں تاکہ متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے اور فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈی ایم اے
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔