اگر عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو وفاقی سیکریٹری اور سیکریٹری واٹر ریسورس ڈویژن پر فرد جرم عائد کی جائیگی
احکامات کے باوجود پیش نہ ہوئے تو انعام اللہ ، علی مرتضی کے وارنٹ گرفتاری جاری کریں،عدالت عالیہ کے ریماکس

سندھ ہائی کورٹ نے آئندہ سماعت سے قبل سندھ سے ارسال کا فیڈرل ممبر تعینات کرنے کا حکم دیدیا، آئینی بینچ نے ارسا میں سندھ سے فیڈرل ممبر تعینات نہ کرنے اورعدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے پرتوہین عدالت کی درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیںکہ اگر عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو وفاقی سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ انعام اللہ اور سیکریٹری واٹر ریسورس ڈویژن علی مرتضی پر فرد جرم عائد کی جائیگی، احکامات کے باوجود پیش نہ ہوئے تو دونوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کریں۔پیرکوسندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں ارسا میں سندھ سے فیڈرل ممبر تعینات نہ کرنے پر عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے پر وفاقی سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ انعام اللہ اور سیکریٹری واٹر ریسورس علی مرتضی کیخلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل و دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے عملدرآمد نہ کرنے پر عدالت برہم ہوگئی۔ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ لوگ سندھ سے ارسا کا وفاقی ممبر کیوں نہیں کرتے۔ جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیئے کہ بتائیں اب تک کیوں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ کیا آپ لوگ فیڈریشن پر یقین رکھتے ہیں؟ کیا آپ لوگ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں؟ جسٹس کے کے آغا نے استفسار کیا کہ آئین پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا جا رہا؟ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے سپریم کورٹ میں بھی اپیل دائر کی گئی تھی۔ لیکن عدالت نے وہ درخواست بھی نمٹا دی ہے۔ 2013 میں درخواست دائر کی گئی تھی۔ عدالت نے درخواستگزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ سندھ کی جگہ کہاں سے ممبر تعینات کرتے ہیں۔ وکیل نے موقف دیا کہ انہوں نے پنجاب سے ارسا کا وفاقی رکن تعینات کیا ہے۔ عدالت نے ریمارلس دیئے کہ بتائیں آپ لوگ کیوں سندھ سے ارسا میں رکن تعینات نہیں کرتے۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر عدالتی فیصلے پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔ جسٹس عدنان الکریم میمن نے استفسار کیا کہ ارسال میں کتنے ممبر ہوتے ہیں؟ فیضان میمن ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ کل 5 ہوتے ہیں ہر صوبے اور فیڈرل سے ایک ایک ممبر ارسا میں تعینات کیا جاتا ہے۔ 2017 میں عدالت نے درخواست پر فیصلہ سنایا تھا۔ 2017 سے لے کر اب تک عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا۔ ارسا میں سندھ سے فیڈرل ممبر تعینات نہیں کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو وفاقی سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ انعام اللہ اور سیکریٹری واٹر ریسورس ڈویژن علی مرتضی پر فرد جرم عائد کی جائیگی۔ احکامات کے باوجود پیش نہ ہوئے تو دونوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کریں۔ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرکے آئندہ سماعت فریقین پیش ہوں۔ عدالت نے آئندہ سماعت سے قبل سندھ سے ارسال کا فیڈرل ممبر تعینات کرنے کا حکم دیدیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ارسا میں سندھ سے فیڈرل ممبر تعینات عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد وفاقی سیکریٹری استفسار کیا کہ انعام اللہ تعینات نہ علی مرتضی نہیں کیا عدالت نے ہیں کیا آپ لوگ دیا کہ

پڑھیں:

نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
 

متعلقہ مضامین

  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش