ڈکی بھائی نے پیسہ کیسے کمایا؟ کہاں کہاں انویسٹ کیا؟ سنگین انکشافات سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اگست 2025ء ) معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی کی گرفتاری کے بعد ان کے خلاف عائد الزامات اور درج مقدمات کے حوالے سے نئے انکشافات سامنے آگئے۔ اُردوپوائنٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے پنجاب زون محمد سرفراز چوہدری نے بتایا کہ ایسے لوگوں کے خلاف انکوائری چل رہی تھی جو نوجوانوں میں جوئے والی گیمز یا اس طرح کی دیگر چیزوں کو فروغ دے رہے ہیں، جو لوگ بچوں کو جوئے کی طرف راغب کر رہے ہیں ایسے لوگوں کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے، ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ٹک ٹاک یا اس طرح کے دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لائیو آکر فحاشی پھیلانے میں ملوث پائے جاتے ہیں، ایسے لوگ یا تو اپنا قبلہ درست کرلیں ورنہ انہیں ضرور گرفتار کیا جائے گا۔
(جاری ہے)
ان کا کہنا ہے کہ سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی کے خلاف ریاست کی طرف سے ڈیڑھ دو ماہ پہلے انکوائری شروع کی گئی اور اسی وقت جو لوگ بھاگنے کی کوشش میں تھے ان کے نام کنٹرول لسٹ میں بھی دال دیئے گئے تھے، جس کی وجہ سے یہ ٹریول نہیں کرسکتے تھے اور چھپے ہوئے تھے، اب جیسے ہی انہوں نے ملک سے بھاگنے کی کوشش کی ہے تو پکڑے جارہے ہیں اور جو لوگ ملک سے فرار ہیں وہ بھی تیار رہیں ہم ان کے پاس بھی آرہے ہیں۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے پنجاب زون نے بتایا کہ ڈکی بھائی اپنے ولاگز اور پروگرامز میں جوئے کی ایپس کو پروموٹ کر رہے تھے، اس حوالے سے انہوں نے پچھلے کچھ عرصہ مین درجنوں پروگرامز کیے اور ایک پروگرام کے عوض 10 سے 20 ہزار ڈالر تک چارج کر رہے تھے، آپ اندازہ کرلیں اگر انہوں نے 3 درجن پروگرام بھی کیے تو ان سے کتنا زیادہ پیسہ کمایا، اتنے زیادہ پیسے لے کر یہ لوگ بچوں کو جوا کھیلنا سکھا رہے ہیں، ہم ان کی تمام جائیداد کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں، محکمہ ایکسائز سے گاڑیاں بھی چیک کر رہے ہیں کہ کیا وہ سب گاڑیاں ان کے نام پر ہیں، انہوں نے مزید کیا انکشافات کیے، جاننے کیلئے یہ ویڈیو ملاحظہ کریں؛.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ڈکی بھائی انہوں نے رہے ہیں کر رہے
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔