لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینئر صحافی اور تجزیہ کار رضی دادانے سہیل وڑائچ کی عمران خان سے معافی منگوانے کی خبر کو غلط قرار دیدیا۔

نجی ٹی وی چینل پبلک نیوزکی اینکرپرسن زریاب عرفان نے اپنے پروگرام کا ویڈیوکلپ سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے جس میں رضی ادادا کاکہناتھا کہ جولوگ  آرمی چیف کے قریب رہ چکے ہیں یا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ،میں نے ان سے پوچھا کہ کیایہ ان کا اسلوب ہے گفتگو ،جو سہیل وڑائچ کوٹ کررہے ہیں۔رضی داداکا کہناتھا کہ میں سمجھتا ہوں سہیل وڑائچ کا سینئر صحافیوں میں اعلیٰ مقام ہے،ان کا احترام پیش نظر رکھتے ہوئے میں یہ بات کررہا ہوں۔

’’پنجاب وار بک‘‘ کی تیاری کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاس، ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے ابتدائی خاکہ پیش کیا گیا

سینئر صحافی نے کہاکہ ان لوگوں کاکہناتھا کہ نہیں، ہمارے خیال کے مطابق ان کا یہ مزاج  ہی نہیں ہے،وہ اس طرح گفتگو کرتے ہی نہیں ہے،جس طرح سہیل وڑائچ کوٹ کررہے ہیں۔

اینکرکے سوال کے جواب میں رضی دادا نے کہاکہ اگر مدعی چاہے تو سہیل وڑائچ پر پیکا ایکٹ لگ سکتا ہے،مدعی کہے کہ ہم نے یہ بات نہیں کہی،رضی داداکاکہناتھا کہ سہیل وڑائچ نے جو بھی باتیں لکھی  ہیں بہت بچ بچا کے ، جیسے زبان 32دانتوں میں رہ کرموو کرتی ہے،اسی طرح انہوں نے بڑا بچ بچا کے لکھا۔

رضی دادا کاکہناتھا چونکہ میں اس ادارے کے ساتھ منسلک رہاہوں،مجھے پتہ ہے کہاں کہاں سے کلیئرنس ہو کر آتی ہے اور لیگل ٹیم بھی اس طرح کی چیزوں کو دیکھتی ہے۔

ہرات، صنعتی ٹاؤن میں 5 ہزار مزدوروں کا اضافہ

سینئر صحافی نے کہاکہ دوسراپہلو یہ ہے کہ اس کی تردید بھی آ گئی،عمران خان  نے کہاکہ میں تومعافی نہیں مانگوں گابلکہ مجھ سے مانگی جائے،جو بندہ تردید لے کر آیا ہے اس بندے پر یہ الزام ہے کہ پہلے اندر سے پیغام لا کر دیتا تھا جو ٹوئٹس کی شکل میں آتے تھے،اب اس پر پابندی لگ گئی ہے۔

سہیل وڑائچ کی عمران خان سے معافی منگوانے کی خبرغلط ہے
اگر مدعی چاہےتوان پر پیکاایکٹ لگ سکتاہےانہوں نے بچ بچاکرخبر دی,جوکہ درست نہیں ہے ????

فیلڈ مارشل کے قریبی سمجھے جانے والےاس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ جوخبرسہیل صاحب نے دی

آرمی چیف کاایسامزاج ہی نہیں وہ ایسی گفتگوکرتے ہی نہیں pic.

twitter.com/RcntxGGB6m

— Zaryab Rajput (@BXaryab) August 18, 2025

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: سہیل وڑائچ نے کہاکہ ہی نہیں

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا