مستونگ، ڈی ایس پی رفیق حمزہ سرکاری گاڑی سمیت لاپتہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
پولیس ذرائع کے مطابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس رفیق حمزہ مینگل حب سے مستونگ جاتے ہوئے لاپتہ ہوگئے ہیں۔ جس پر حکام نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان پولیس کے افسر سرکاری گاڑی سمیت بلوچستان کے ضلع مستونگ سے لاپتہ ہو گئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) رفیق حمزہ مینگل حب سے مستونگ جاتے ہوئے لاپتہ ہوگئے ہیں۔ جس پر حکام نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ڈی ایس پی مینگل اپنی والدہ کے انتقال کے بعد اپنے آبائی علاقے مشکے، ضلع آواران سے حب واپس آئے تھے اور جمعرات کی دوپہر مستونگ میں ڈیوٹی سنبھالنے کے لئے روانہ ہوئے، انہیں آخری بار سوراب نیشنل ہائی وے پر دیکھا گیا، اس کے بعد ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا، جبکہ ان کا موبائل فون بھی مسلسل بند ہے۔ ڈی ایس پی رفیق حمزہ کی گمشدگی کی اطلاع ڈرائیور نے دی تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ڈی ایس پی کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رفیق حمزہ ڈی ایس پی
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔