امریکا میں شہاب ثاقب سمجھی جانے والی روشنی دراصل گرنے والا سیٹلائٹ نکلا
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا میں گزشتہ روز ایک دلچسپ اور حیران کن واقعہ پیش آیا جب آسمان پر روشن لکیر نمودار ہوئی اور لوگوں نے اسے شہابِ ثاقب سمجھ لیا۔
یہ منظر امریکی ریاست جنوبی کیلیفورنیا اور نیواڈا کے آسمان پر مقامی وقت کے مطابق شام سات بج کر پچاس منٹ پر دیکھا گیا۔ امریکی میٹیور سوسائٹی (اے ایم ایس) کو اس بارے میں دو سو سے زائد شہریوں کی رپورٹس موصول ہوئیں، تاہم ماہرین نے واضح کیا کہ اس وقت کسی شہاب ثاقب کے دیکھے جانے کا کوئی امکان نہیں تھا۔
بعد ازاں اے ایم ایس نے وضاحت کی کہ آسمان پر دکھائی دینے والی یہ روشنی دراصل اسپیس ایکس کے اسٹارلنک سیٹلائٹ کی باقیات تھیں، جو زمین کے ماحول میں دوبارہ داخل ہو کر جل رہی تھیں۔ ماہرین کے مطابق زمین کی کشش ثقل کے باعث سیٹلائٹس ایک مقررہ وقت کے بعد واپس فضا میں داخل ہوتے ہیں اور تیز حرارت کے سبب ٹکڑوں میں بکھر کر زمین پر گر جاتے ہیں۔
ایرو اسپیس کارپوریشن، جو کہ غیر منافع بخش ادارہ ہے اور سیٹلائٹس کی واپسی کو ٹریک کرتا ہے، نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں متعدد اسٹارلنک سیٹلائٹس کے دوبارہ ایٹماسفیئر میں داخل ہونے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ اسی دوران لوگوں نے اس غیر معمولی منظر کو شہابِ ثاقب سمجھ لیا اور بڑی تعداد میں سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور تصاویر شیئر کر ڈالیں۔
یہ واقعہ اس بات کا مظہر ہے کہ خلائی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے بعد آسمان پر دکھائی دینے والے مناظر اکثر عام شہریوں کو حیران کر دیتے ہیں۔ ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ کسی خطرے کی علامت نہیں بلکہ سیٹلائٹس کے معمول کے فضائی سفر کا حصہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔