ممبئی (شوبز ڈیسک)بھارت میں بولی وُڈ ایک بار پھر نفرت اور تعصب پر مبنی پروپیگنڈا کے ذریعے تاریخ کو مسخ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اداکار پریش راول کی نئی فلم ’’دی تاج اسٹوری‘‘ کا موشن پوسٹر جاری ہوتے ہی سوشل میڈیا پر شدید تنقید اور عوامی غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اس پوسٹر میں تاج محل کے گنبد سے ایک بت نما مورتی ابھرتی دکھائی گئی، جو بھارت میں برسوں سے پھیلائے جانے والے اُس جھوٹے بیانیے کو ہوا دیتی ہے کہ تاج محل کسی قدیم ہندو مندر کی جگہ تعمیر کیا گیا تھا۔

بھارتی حکمران جماعت بی جے پی اور اُس کی ہندوتوا مشینری پہلے ہی تاریخی مغل یادگاروں اور مسلم ورثے کے خلاف زہر اگلتی رہی ہے، اور اب بولی وُڈ کو بھی اسی نفرت انگیز ایجنڈے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس فلم کے پوسٹر پر عوام نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت جیسا ملک، جو خود کو دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار کراتا ہے، دراصل پروپیگنڈا اور نفرت کی سیاست میں ڈوبا ہوا ہے۔

ایک صارف نے لکھا، ’یہ کیسا مذاق ہے؟ بھارتی فلم انڈسٹری اب تاج محل جیسے عالمی ورثے کو بھی ہندو انتہا پسند ایجنڈے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔‘

شدید تنقید کے بعد پریش راول نے جلدی میں پوسٹر ڈیلیٹ کیا اور فلم ساز ادارے کی جانب سے وضاحتی بیان شیئر کیا، جس میں کہا گیا کہ فلم کا تعلق کسی مذہبی تنازع سے نہیں بلکہ ’’تاریخی حقائق‘‘ سے ہے۔

pic.

twitter.com/GICH4T11K0

— Paresh Rawal (@SirPareshRawal) September 29, 2025


تاہم بھارتی عوام اور عالمی سطح پر دیکھنے والے اس وضاحت کو مسترد کر رہے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ’’تاریخی حقائق‘‘ کے نام پر ہندوتوا بیانیہ پھیلانے کی سازش کی جا رہی ہے تاکہ مسلمانوں کے خلاف مزید نفرت اور تقسیم کو ہوا دی جا سکے۔

I’m deeply concerned about the current direction our country is taking. It’s disheartening to see efforts to create division between Hindus and Muslims for the sake of vote bank politics. This isn’t progress — it’s a step backward. #TheTajStory https://t.co/p0FpvQR023

— SOUMEN KISKU (@kisku_soumen) September 30, 2025

فلم ’’دی تاج اسٹوری‘‘ کا ٹیزر پہلے ہی اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ یہ محض ایک تاریخی ڈرامہ نہیں بلکہ ایک ایسا پروپیگنڈا ہے جس کے ذریعے مسلم حکمرانوں اور مغل ورثے کو بدنام کر کے ہندو انتہا پسند سیاست کو تقویت دی جائے۔

فلم کی ریلیز 31 اکتوبر 2025 کو رکھی گئی ہے، اور تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بھی محض انتخابی سیاست کے لیے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی ایک اور قسط ہے۔

واضح رہے کہ ہندوتوا کے پیروکار کئی برسوں سے تاج محل کو ’’تیجو مہالیہ‘‘ قرار دے کر اسے ہندو مندر ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہے ہیں، حالانکہ تاریخ دان اور ماہرین بارہا یہ دعویٰ مسترد کر چکے ہیں۔

اس کے باوجود بھارت میں فلم انڈسٹری اور میڈیا کو زہر پھیلانے کے لیے استعمال کیا جانا، اس بات کا ثبوت ہے کہ بی جے پی حکومت مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے کو ہی اپنی بقا کا ہتھیار سمجھتی ہے۔

Post Views: 1

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: تاج محل کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات

بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب

اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔

تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت

اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔

دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ

متعلقہ مضامین

  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی