دیرینہ دشمنی کا شاخسانہ، مسلح افراد نے پیشی پرآئے 3افراد کو گولیاں ماردیں
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
محراب پور(جسارت نیوز)دیرانہ دشمنی کا شاخسانہ، گھات لگا کر بیٹھے مسلح افراد کی فائرنگ میں تین افراد جاں بحق ہوگئے، افسوس ناک واقعہ کنڈیارو پولیس تھانہ کی حدود میں لنڈو موری اسٹاپ پر پیش آیا جہاں پر لاکھا روڈ سے کنڈیارو کی عدالت میں شنوائی کیلئے جانے والے ڈاھری برادری کے افراد پر نامعلوم مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس میں ڈاھری برادری کے دو افراد سمیت ایک راہگیر جاں بحق ہوگیا،فائرنگ سے علاقے میں خود و ہراس پھیل گیا،ایس ایس پی نوشہرو فیروز میر روحل کھوسو کے نوٹس پرضلع بھر سے بھاری پولیس نفری جائے واردات پر پہنچ گئی اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، کنڈیارو پولیس کے مطابق زخمی اور جاں افراد کو اسپتال منتقل کر دیا ہے جاں بحق افراد میں 54 سالہ رسول بخش ولد اللہ واریو ڈاھری، 24 سالہ محمد ارشد ولد صوف ڈاھری اور راہگیر شاہد راجپر شامل ہیں، فائرنگ میں محمد سعید ولد رسول بخش ڈاھری شدید زخمی ہوا ہے، پولیس نے مزید بتایا کہ جاں افراد کی نعش ضروری کارروائی بعد ورثاء حوالے کر دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔