پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیئر رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ ہم نے نیک نیتی سے حکومت کا ساتھ دیا، تاہم بدقسمتی سے حکومت نے کیے گئے معاہدے کی تمام شقوں پر عملدرآمد نہیں کیا۔

لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ ہماری بہن اور بیٹی ہیں، زرا اپنے لہجے پر غور کریں، جو اختلاف جتنا ہوا اسے یہیں تک رہنے دیں۔

یہ بھی پڑھیں: ہر چیز کا علاج بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نہیں، اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں، وزیراعلیٰ مریم نواز

قمر زمان کائرہ نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی نے بغیر وزارتیں لیے حکومت کا ساتھ دیا، لیکن اس وقت جو مکالمہ آرائی ہو رہی ہے اس سے سیاست اور جمہوریت کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ ہم نے ہر ایشو اور ہر قدم پر حکومت کو سپورٹ کیا، بارہا کوشش کی کہ معاہدے پر عمل ہو، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ ہم حکومت سے کوئی پاور شیئرنگ نہیں کر رہے، صرف ساتھ دے رہے ہیں۔

قمر زمان کائرہ نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کی کوشش کی، اور موجودہ صورتحال میں بھی ایک مخصوص دباؤ کا شکار ہے۔

انہوں نے حکومت سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ساتھ دینے کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت جو بھی کرے، ہم اس کی تائید کریں گے۔

پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری بڑے تحمل اور بردباری سے معاملات کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے پنجاب حکومت کو مشورہ دیا کہ اختلافی رائے پر سیخ پا ہونے کے بجائے جمہوری طریقے سے بات کی جائے۔

قمر زمان کائرہ نے کہاکہ بلاول بھٹو کے حالیہ قصور دورے کے دوران انتظامیہ کا رویہ مناسب نہیں تھا، باوجود اس کے کہ بلاول بھٹو نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی تعریف کی کہ وہ اچھا کام کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، حالانکہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے ہمیشہ قومی مفاد کو ترجیح دی ہے، اور کسی بھی قدم کو ذاتی فائدے کے لیے نہیں اٹھایا۔

انہوں نے کہاکہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے ساتھیوں سے گزارش ہے کہ اختلاف ضرور کریں لیکن وہ لہجہ استعمال نہ کریں جو ماضی میں کیا جاتا رہا۔

قمر زمان کائرہ نے کہاکہ بی آئی ایس پی پروگرام صرف پیپلزپارٹی کا نہیں ہے، جب بھی کوئی قدرتی آفت آئی بی آئی ایس پی کے ذریعے لوگوں کی ابتدائی مدد کی گئی۔

انہوں نے پنجاب حکومت سے شکوہ کرتے ہوئے کہاکہ ہم جب کوئی تجویز دیتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ پنجاب حکومت پر انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں۔ ہماری تنقید پر سیخ پا ہو کر آپ کہتی ہیں کہ چھوڑوں گی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سیلاب اور گندم پر سیاست کرنے والوں کو جواب ملے گا، مریم اورنگزیب کا پیپلزپارٹی پر وار

پی پی رہنما نے کہاکہ آپ کے مکالمے پر اگر سندھ حکومت کی جانب سے بھی ایسا ہی جواب آیا تو پھر کیا کریں گی، اگر ہماری رائے اور مشورہ نہ مانا گیا تو احتجاج کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلاف پیپلز پارٹی مریم نواز وزیراعلٰی پنجاب وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اختلاف پیپلز پارٹی مریم نواز وی نیوز قمر زمان کائرہ نے کہا پیپلز پارٹی کرتے ہوئے مریم نواز انہوں نے نے کہاکہ

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا