اسرائیل کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا نہ کرنے جا رہے ہیں‘ قائم مقام صدر مملکت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251003-08-26
پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) قائم مقام صدر مملکت سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا ہے نہ کرنے جارہے ہیں، وزیر خارجہ پارلیمنٹ کو اس حوالے سے اعتماد میں لیں گے۔ گورنر ہاؤس پشاور میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے قائم مقام صدر نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ امن معاہدہ کیا گیا جس میں ہمارے اتحادی سعودی عرب، یو اے ای، انڈونیشیا، ترکی، اردن بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے حوالے سے ہم نے کوئی فیصلہ کیا ہے نہ کرنے جارہے ہیں، جب پارلیمنٹ کا اجلاس ہوگا وزیر خارجہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے، ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خزانہ پہلے ہے وضاحت کرچکے ہیں۔ قائم مقام صدر کا کہنا ہے کہ جب آئین کے مطابق چلیں گے تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، صوبے کے حقوق، نئے صوبوں کی تشکیل، این ایف سی کی تشکیل ان سب کی آئین میں وضاحت ہے، ہم جمہوری لوگ ہیں اور جمہوریت میں اختلاف رائے ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے تیسری بار وزیراعظم بننے والی شرط ختم کی، اس کا فائدہ کس کو ہوا، 58 ٹو بی کو ختم کیا گیا پارلیمنٹ توڑنے کا اختیار صدر سے ختم ہوا۔
پشاور: قائم مقام صدر اور چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی پاکستان بزنس سیمینار سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حوالے سے
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔