امریکا میں ایک حادثے کے بعد 19 سالہ طالبہ کرسٹا تسکاہارا کے والدین نے ٹیسلا کمپنی پر مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ دعوے کے مطابق سائبر ٹرک درخت سے ٹکرانے کے بعد آگ بھڑک اُٹھی لیکن ڈیزائن کے نقص کے باعث لڑکی دروازہ نہ کھول سکی اور آگ و دھوئیں سے ہلاک ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں:ٹیسلا ٹرکس میں تکنیکی خرابی، کمپنی نے گاڑیاں واپس منگوالیں

مقدمہ کیلیفورنیا کی الامیڈا کاؤنٹی کی عدالت میں دائر کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ کمپنی برسوں سے اس خامی سے آگاہ تھی مگر اس پر قابو پانے کے لیے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔

حادثے میں کل 4 افراد سوار تھے جن میں سے 3، بشمول ڈرائیور، ہلاک ہو گئے۔ ایک شخص کو کھڑکی توڑ کر زندہ نکالا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ ڈرائیور منشیات اور شراب کے زیرِ اثر تھا۔

یہ مقدمہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی حکام نے ٹیسلا گاڑیوں کے دروازے جام ہونے کی شکایات پر باضابطہ تحقیقات شروع کی ہیں۔

ٹیسلا

اس سے قبل فلوریڈا کی ایک جیوری نے ٹیسلا کے خلاف ایک اور کیس میں مقتول طالب علم کے اہلِ خانہ کو 240 ملین ڈالر ہرجانہ دلایا تھا۔

ٹیسلا کی جانب سے تاحال اس تازہ مقدمے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الامیڈا کاؤنٹی ٹیسلا ٹرک فلوریڈا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ٹیسلا ٹرک فلوریڈا

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال