سابق صدر عارف علوی کی مستقل سرکاری رہائشگاہ کیلیے درخواست پر اٹارنی جنرل کو نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
کراچی:
سندھ ہائیکورٹ نے سابق صدر عارف علوی کی مستقل سرکاری رہائشگاہ کے لیے درخواست پر اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیے۔
ہائیکورٹ میں سابق صدر عارف علوی کی مستقل سرکاری رہائشگاہ کے لیے درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں درخواستگزار کے وکیل نے مؤقف دیا کہ عارف علوی 2018 سے 2024 تک صدرمملکت رہے ہیں، جس کی وجہ سے وہ تاحیات سرکاری رہائشگاہ کے اہل ہیں۔
وکیل کے مطابق عارف علوی کو پہلے رہائش کے لیے باتھ آئی لینڈ کا بنگلہ 3-اے الاٹ کیا تھا۔ بعد ازاں انہیں بنگلہ نمبر 5-اے الاٹ کردیا گیا۔ مذکورہ بنگلہ کسٹم ممبر شہاب امام کے قبضے میں ہے۔ شہاب امام نے بنگلے پر 2023 سے حکم امتناعی حاصل کر رکھا ہے۔ سابق صدر کے ساتھ وفاقی حکومت کا یہ رویہ مناسب نہیں۔ سابق صدر کو مذکورہ بنگلے کی موجودہ حیثیت کا پہلے نہیں بتایا گیا۔ وفاقی حکومت کو مذکورہ بنگلہ بطور رہائش سابق صدر کو دینے کا حکم دیا جائے۔
بعد ازاں عدالت نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیرا وائز جواب جمع کرانے کا حکم دیدیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سرکاری رہائشگاہ عارف علوی
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔