UrduPoint:
2026-06-03@05:02:22 GMT

حکومت کے تجارتی ڈیٹا میں 11 ارب ڈالر کے فرق کا انکشاف

اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT

حکومت کے تجارتی ڈیٹا میں 11 ارب ڈالر کے فرق کا انکشاف

اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 اکتوبر2025ء ) حکومت کے تجارتی ڈیٹا میں 11 ارب ڈالر کے فرق کا انکشاف ہوا ہے جس پر عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دو مالی سالوں کے دوران سرکاری اداروں کے رپورٹ کردہ تجارتی اعداد و شمار میں 11 ارب ڈالر کے فرق کو عوامی طور پر ظاہر کیا جائے جس سے ملک کے بیرونی شعبے کے اعشاریوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

صحافی شہباز رانا کی رپورٹ کے مطابق حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (PRAL) کی رپورٹ کردہ درآمدات پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) کے اعداد و شمار کے مقابلے میں مالی سال 2023/24ء کے دوران 5.

1 ارب ڈالر کم تھیں، اگلے مالی سال میں یہ فرق بڑھ کر 5.7 ارب ڈالر ہو گیا، پی ایس ڈبلیو کے اعداد و شمار کو زیادہ جامع سمجھا جاتا ہے اور ان میں تمام درآمدی اندراجات شامل ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)

ذرائع سے پتا چلا ہے کہ پاکستانی حکام نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کی جانب سے جنیوا میں قائم انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر (ITC) کو جمع کرائے گئے تجارتی اعداد و شمار جامع نہیں تھے اور اس کی رپورٹنگ میں کچھ درآمدی اعداد و شمار غائب تھے، تاہم یہ کمی کسی غلط ارادے کی بجائے تجارتی اعداد و شمار کے ماخذ کے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ سے پاکستان سنگل ونڈو میں منتقل ہونے کے عمل کی وجہ سے ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کمی اس وقت سامنے آئی جب پاکستانی درآمد کنندگان اور چینی برآمد کنندگان کے اعداد و شمار میں بڑے فرق کی وجوہات کی جانچ پڑتال کی جا رہی تھی، ایک مشترکہ ٹیم کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ پی بی ایس کے تجارتی اعداد و شمار ایک پرانے پروگرامڈ کوئری کے ذریعے حاصل کیے جا رہے تھے جو 2017ء کے بعد اپ ڈیٹ نہیں ہوا تھا، جس کی وجہ سے درآمدات کی مسلسل کمی رپورٹ ہو رہی تھی۔

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پی ایس ڈبلیو کا ڈیٹا بیس 15 قسم کے گڈز ڈیکلیریشنز پر مبنی تھا جو پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ کے صرف سات اقسام کے ڈیٹا کے مقابلے میں زیادہ جامع تھا، اس فرق کے نتیجے میں مالی سال 2023/24ء میں 5.1 ارب ڈالر اور پچھلے مالی سال میں 5.7 ارب ڈالر کی درآمدات کم رپورٹ ہوئیں، سب سے زیادہ فرق ٹیکسٹائل کے شعبے میں دیکھنے میں آیا جہاں تقریباً 3 ارب ڈالر کی درآمدات کم رپورٹ ہوئیں، دھاتی گروپ کی درآمدات بھی مالی سال 2023/24ء میں تقریباً 1 ارب ڈالر کم دکھائی گئیں۔

ذرئع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف نے شفافیت کی ہدایت کی اور پاکستانی حکام سے کہا ہے کہ ماضی کے تجارتی اعداد و شمار کو درست اور اپ ڈیٹ کریں اور انہیں آئی ایم ایف اور تمام مقامی سٹیک ہولڈرز کے ساتھ شیئر کریں، تاہم ذرائع بتاتے ہیں کہ پی بی ایس گزشتہ سالوں کے اعداد و شمار میں ترمیم کو عوامی طور پر ظاہر کرنے سے ہچکچا رہا ہے، وزارت خزانہ کے حکام کو خدشہ ہے ترمیم شدہ اعداد و شمار کے عوامی ہونے سے برآمدات کے خالص حساب کتاب پر اثر پڑ سکتا ہے جو بدلے میں معاشی ترقی کے تخمینوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا جارہا ہے کہ یہ واقعہ پاکستان کے اعداد و شمار کے جمع کرانے کے نظام میں بنیادی خامیوں کو ظاہر کرتا ہے اور ملک کے معاشی اعشاریوں کی شفافیت کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت ہے اور معاشی اصلاحات کے ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے تجارتی اعداد و شمار اعداد و شمار کے کے اعداد و شمار آئی ایم ایف کے تجارتی مالی سال ارب ڈالر

پڑھیں:

کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔

نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔

اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا