عمران خان کی 73 ویں سالگرہ: تقریب میں ہزاروں ا فراد شریک
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف کے سرپرست اعلیٰ عمران خان کی 73ویں سالگرہ کے موقع پر سندھ بھر کے شہروں میں یوم عمران خان منایا گیا۔ کراچی میں مرکزی تقریب ملینیم مال کے قریب منعقد ہوئی، جہاں شہر کے مختلف علاقوں سے ریلیاں پہنچیں، تقریب میں ہزاروں کارکنوں اور شہریوں نے شرکت کی۔ یہ تقریب رات گئے تک جاری رہی اور جلسے کی شکل اختیار کر گئی۔ یوم عمران خان کی تقریبات حیدرآباد، میرپورخاص، شہید بینظیر آباد، لاڑکانہ، سکھر ڈویژن کے چھوٹے بڑے دیگر شہروں میں بھی منعقد ہوئیں۔ کارکنان نے عمران خان کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ مختلف مقامات پر دعائیہ اجتماعات کا اہتمام کیا گیا، جن میں ان کی صحت اور طویل عمر کیلیے دعائیں کی گئیں۔ ان تقریبات میں فلسطین اور کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی بھی کیا گیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ آج قوم یوم عمران خان کو یوم وفا کے طور پر منا رہی ہے۔ عمران خان عالم اسلام کے عظیم لیڈر ہیں۔ اگر وہ قید میں نہ ہوتے تو اسرائیل کو غزہ کے نہتے مسلمانوں پر ظلم کی جرات نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ قوم قائداعظم کے مؤقف پر قائم ہے اور اسرائیل کو کسی صورت تسلیم نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو سخت ترین حالات میں رکھا گیا ہے، انہیں مکمل طور پر تنہا کر دینا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چوری شدہ مینڈیٹ سے اقتدار میں آنے والوں نے معیشت تباہ کر دی، مہنگائی، بیروزگاری میں اضافہ ہو چکا ہے، بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان سے اپنا کاروبار سمیٹ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ختم ہو چکی ہے، اظہار رائے پر پابندیاں عاید کر دی گئی ہیں، قوم کو اپنے حقوق کیلیے میدان میں آنا ہوگا اور عمران خان کی قیادت میں حقیقی آزادی کی تحریک کا حصہ بننا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان جلد رہا ہوں گے اور فلسطین، کشمیر اور قوم کا مقدمہ خود لڑیں گے۔ پی ٹی آئی کراچی کے صدر راجا اظہر نے خطاب میں کہا کہ عمران خان نے جیل میں رہ کر جو تکلیفیں برداشت کیں وہ ناقابل فراموش ہیں۔ ان کی قربانیوں نے چور حکمرانوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سابق ایم این اے فہیم خان نے کہا کہ ملک میں اسرائیل نواز عناصر سرگرم ہیں اور عمران خان کو ایک منظم سازش کے تحت پابند سلاسل کیا گیا ہے تاکہ اسرائیل کو تسلیم کیا جا سکے لیکن قوم اب سب کچھ جان چکی ہے اور کسی صورت اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ شرکاء نے زوردار نعرے بازی کی اور عمران خان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ عمران خان کو عمران خان کی اسرائیل کو
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔